حج 2026 : بیمار افراد کے حج پر جانے پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد : حج 2026 کےلیے سخت طبی شرائط عائد کردی گئی ہیں۔ بیمار افراد کے حج پر پابندی لگادی گئی ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے حج 2026ءکے لیے سخت ترین طبی قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔
قوانین کے تحت بیمار یا کمزور عازمین کو ناصرف حج سے روکا جائے گا بلکہ سعودی عرب پہنچنے کی صورت میں فوری طور پر وطن واپس بھی بھیجا جائے گا۔
بتایا گیا ہے کہ حج 2026 کے لیے سعودی حکام کی ہدایات کی روشنی میں پاکستان نے بھی عازمینِ حج کے لیے سخت طبی شرائط عائد کی ہیں۔
اس حوالے سے وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حج 2026ءمیں صرف وہی افراد سفر کر سکیں گے جو مقررہ معیار کے مطابق مکمل بنیادی صحت کے حامل ہوں۔
بیمار عازمین کو ڈی پورٹ کرنے کی پالیسی سختی سے نافذ کی جائے گی، وطن واپسی کے تمام اخراجات بھی متعلقہ عازم کو خود برداشت کرنا ہوں گے۔
وزارت کے ترجمان نے بتایا کہ گردوں کے مریض، ڈائیلاسز کرانے والے افراد، دل کے امراض میں مبتلا افراد، اور مشقت برداشت نہ کر سکنے والے مریضوں کو حج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پھیپھڑوں اور جگر کے امراض میں مبتلا افراد، شدید اعصابی یا نفسیاتی بیماریوں، یادداشت کی کمزوری، ڈیمنشیا، الزائمر، رعشے اور شدید معذوری کے شکار افراد کے لیے بھی حج پر مکمل پابندی ہوگی۔
ترجمان وزارتِ مذہبی امور نے مزید کہا کہ حاملہ خواتین، کالی کھانسی، تپ دق، وائرل ہیمرجک فیور، اور کینسر کے مریضوں کو بھی حج کی اجازت نہیں ہوگی۔
میڈیکل افسر عازمین کے فٹنس سرٹیفکیٹ کا حتمی فیصلہ کرے گا اور جن افراد کو سفر کے قابل نہ سمجھا گیا انہیں حج پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سعودی عرب میں قائم خصوصی مانیٹرنگ ٹیمیں عازمین کے فٹنس سرٹیفکیٹس کی درستگی کی تصدیق بھی کریں گی۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔