سعودی عرب میں رالی ڈاکار 2026 کی تفصیلات جاری، 69 ممالک کے 812 ڈرائیور شریک ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
سعودی عرب نے رالی ڈاکار سعودی عرب 2026 کی ساتویں ایڈیشن کی تفصیلات کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ عالمی موٹر اسپورٹس ایونٹ 3 سے 17 جنوری 2026 تک مملکت کے مختلف خطّوں میں منعقد ہوگا۔
اعلان جدہ کے کورنیش سرکٹ میں ہونے والی پریس کانفرنس میں کیا گیا، جہاں رالی کے نئے راستے سے بھی پردہ اٹھایا گیا۔ تقریب میں شہزادہ خالد بن سلطان العبدالله الفیصل کے ساتھ یونین کے بین الاقوامی نمائندوں اور وزارتِ کھیل کے افسران نے شرکت کی۔
’ہر ایڈیشن سعودی جذبے اور جدت کی نئی کہانی ہے‘، شہزادہ خالد بن سلطانشہزادہ خالد بن سلطان العبداللہ الفیصل نے کہا کہ رالی ڈاکار نہ صرف مملکت کے قدرتی حُسن کو دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے بلکہ سعودی عرب کی کھیلوں کے میدان میں بڑھتی ہوئی عالمی شناخت کو بھی مضبوط کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکار 2026 کا نیا راستہ ساحلی ریت سے لے کر بلند پہاڑی سلسلوں تک سعودی عرب کے زمینی تنوع کو غیر معمولی انداز میں اجاگر کرے گا۔
انہوں نے سعودی ڈرائیور یزید الراجحی کو ’سعودی خواب کی عملی تعبیر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابیاں نوجوانوں کے لیے ترغیب کا باعث ہیں۔ پروگرام کا مقصد نئے ڈرائیورز اور نیوی گیٹرز کو تیار کر کے عالمی سطح کے مقابلوں میں نمایاں مقام دلانا ہے۔
812 مقابلہ باز — 69 ممالک — 7994 کلومیٹر کا سفرجاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق:
812 مقابلہ باز رالی میں حصہ لیں گے
یہ مقابلہ باز 69 ممالک کی نمائندگی کریں گے
39 خواتین ڈرائیورز بھی شامل ہوں گی
رالی کے لیے 433 گاڑیاں مختلف کیٹیگریز میں حصہ لیں گی
کل فاصلہ 7994 کلومیٹر ہوگا
جن میں سے 4840 کلومیٹر خصوصی ٹائمنگ مراحل ہوں گے
رالی کا آغاز اور اختتام ساحلی شہر ينبع میں ہوگا، جب کہ راستہ العلا، حائل، ریاض، وادی الدواسر، بیشہ اور الحناکیہ سے گزرتا ہوا دوبارہ ينبع پہنچے گا۔
یزید الراجحی کو خراجِ تحسین، نوجوان ڈرائیور منتخبپریس کانفرنس کے دوران سعودی ڈرائیور یزید الراجحی کو ڈاکار 2025 میں تاریخی سعودی فتح پر خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
مزید برآں، نوجوان ڈرائیور حمزہ باخشب اور عبداللہ الشقاوی کو ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے منتخب کیے جانے کا اعلان کیا گیا، جس کا مقصد نئی موٹر اسپورٹس صلاحیتوں کی تیاری اور عالمی مقابلوں میں موثر شرکت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔