ٹرمپ سعودی عرب کو ایف-35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے پر غور کر رہے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ آئندہ ملاقات میں سعودی عرب کو ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ ایک امریکی انتظامی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ دونوں رہنما اقتصادی اور دفاعی معاہدوں پر دستخط کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس میں لیکوئفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی خریداری بھی شامل ہو سکتی ہے۔
اگر یہ فروخت مکمل ہوتی ہے تو یہ سعودی عرب کے لیے ایک اہم قدم ہوگا، کیونکہ واشنگٹن اور ریاض اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس موقع پر ٹرمپ سعودی عرب پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ’ابراہم معاہدے‘ کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے۔
سعودی عرب ایف-35 طیارے خریدنے کا خواہاں ہے، جو لاک ہیڈ مارٹن کی تیار کردہ جدید ترین لڑاکا طیاروں میں شمار ہوتے ہیں، ہر طیارے کی قیمت تقریباً 10 کروڑ ڈالر ہے۔ تاہم، اس معاہدے کے راستے میں کئی رکاوٹیں بھی موجود ہیں۔ اسرائیل اس علاقے میں ایف-35 کا واحد ملک ہونے کی حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ پینٹاگون نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سعودی عرب کو یہ طیارے فروخت ہوئے تو چین جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
متوقع فروخت سے متعلق زیر بحث مسائل میں مصنوعی ذہانت کی چپس، جوہری ٹیکنالوجی، غزہ کے مستقبل، اور سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات شامل ہیں۔ یاد رہے کہ 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات کشیدہ ہوئے تھے، تاہم ٹرمپ نے ولی عہد کے ساتھ قریبی تعلقات بنانے کی کوشش کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “وہ بہت سے طیارے خریدنا چاہتے ہیں، میں اس پر غور کر رہا ہوں۔ انہوں نے مجھے کہا کہ میں غور کروں، وہ واقعی بڑی تعداد میں لڑاکا طیارے چاہتے ہیں۔”
یہ ممکنہ فروخت اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ اور سعودی ولی عہد کی ملاقات آئندہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں شیڈول ہے، جہاں دونوں رہنما دفاعی اور اقتصادی معاہدوں پر دستخط کرنے کے منتظر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کر رہے ہیں کے ساتھ
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔