سینیٹ ، کانگریس اور ٹرمپ کے دستخط، امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن ختم
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حکومتی فنڈنگ کے متعلق بل پر دستخط کیے جانے کے بعد ملکی تاریخ کا طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن ختم ہو گیا ہے۔اس سے قبل امریکی کانگریس کے ایوان زیریں نے حکومتی شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کا بل منظور کیا تھا۔
ایوانِ نمائندگان میں رائے شماری کے دوران بل کے حق میں 222 جبکہ مخالفت میں 209 ووٹ پڑے، چھ ڈیموکریٹ ارکان نے بھی ریپبلیکنز کا ساتھ دیتے ہوئے اس بل کی منظوری کے لیے ووٹ دیا تھا۔
اس بل پر دستخط کرنے سے قبل صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ملک کبھی اس سے بہتر حالت میں نہیں رہا، آج بہترین دن ہے۔
واضح رہے کہ 43 دن سے جاری شٹ ڈاؤن کی وجہ سے حالیہ ہفتوں میں ہزاروں سرکاری ملازمین بغیر تنخواہ کے کام کر رہے تھے جبکہ کئی کو رخصت پر بھیج دیا گیا اور کئی کو نکال دیا گیا تھا۔
اخراجاتی بل کی منظوری کے بعد حکومت کے لیے 30 جنوری تک فنڈز فراہم کیے جا سکیں گے جس سے حکومت کی مالی سرگرمیاں بغیر رکاوٹ جاری رہ سکیں گی، بل کا مقصد غذائی امدادی سکیموں کی بحالی، تنخواہوں کی ادائیگی اور ائیر ٹریفک کنٹرول نظام دوبارہ فعال کرنا بھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شٹ ڈاو ن
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔