Daily Mumtaz:
2026-07-24@15:39:43 GMT

صدر مملکت نے 27ویں آئینی ترمیم بِل پر دستخط کردیے

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

صدر مملکت نے 27ویں آئینی ترمیم بِل پر دستخط کردیے

اسلام آباد(نیوزڈیسک )صدر آصف علی زرداری نے 27ویں آئینی ترمیم بِل پر دستخط کیے، جو دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکی ہے جس کے بعد بل اب آئین کا حصہ بن گیا ہے۔

قومی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد سینیٹ سیکرٹریٹ نے آئینی ترمیمی بل 2025 وزارت پارلیمانی امور کو بھجوایا تھا۔

وزارت پارلیمانی امور نے آئینی ترمیمی بل صدر کو بھجوایا، صدر کی منظوری کے بعد وزارت قانون گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔

قبل ازیں سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظورکیا تھا، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم کے نئے متن کو سینیٹ میں پیش کیا جس کے بعد ترامیم کو شق وار منظور کیا گیا۔

پی ٹی آئی نے سینیٹ میں ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کیا جب کہ جے یو آئی ف نے مخالفت میں ووٹ دیا، پی ٹی آئی اراکین نے حتمی منظوری سے قبل واک آؤٹ کردیا، جے یو آئی ف کے اراکین ایوان میں موجود رہے۔

آئینی ترمیم کے حق میں 64 ووٹ پڑے، جے یو آئی کے 4 ارکان نے مخالفت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے بعد

پڑھیں:

قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی، 
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔

عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔

آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی

متعلقہ مضامین

  • سی پیک اتھارٹی کی بلٹ پروف گاڑی خریدنے کی منظوری
  • ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 12 فوجی، 2 پولیس اہلکار شہید، 12 دہشتگرد ہلاک کردیے گئے
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن