انقرہ (ویب ڈیسک)ترکیہ نے بھارتی میڈیا کے ان دعووں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ انقرہ کا اس ہفتے دہلی میں ہونے والے کار بم دھماکے سے کوئی تعلق ہے۔

ترک خبر رساں ایجنسی ’انادولو‘ کے مطابق ترکیہ کے سینٹر فار کمبیٹنگ ڈس انفارمیشن (ڈی ایم ایم) نے ترک سوشل میڈیا پلیٹ فارم این سوشیال پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی میڈیا کے بعض اداروں میں جان بوجھ کر پھیلائی جانے والی رپورٹس غلط ہیں۔

بھارتی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ترکیہ کا بھارت میں دہشت گرد کارروائیوں سے تعلق ہے اور وہ دہشت گرد گروہوں کو لاجسٹک، سفارتی اور مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل بھارتی حکومت نے تصدیق کی تھی کہ دہلی کار بم دھماکے میں 12 افراد ہلاک اور کم از کم 20 زخمی ہوئے ہوئے تھے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس دھماکے کو دہشت گردی کے واقعے کے طور پر دیکھ رہی ہے اور اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ مجرموں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

ترکیہ کے ڈائریکٹوریٹ آف کمیونیکیشنز نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بھارتی میڈیا کے دو اداروں کی سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انقرہ بھارت کے خلاف سلیپر سیلز کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرنے میں کردار ادا کر رہا ہے اور دنیا بھر میں تمام دہشت گرد گروپوں کو لاجسٹک، سفارتی اور مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارتی میڈیا کے بعض اداروں میں جان بوجھ کر شائع کی جانے والی یہ خبریں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کے لیے چلائی جانے والی بدنیتی پر مبنی غلط معلوماتی مہم کا حصہ ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ دعویٰ کہ ترکیہ بھارت یا کسی دوسرے ملک کو ہدف بنا کر ‘انتہا پسندی کی سرگرمیوں’ میں ملوث ہے، سراسر گمراہ کن ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

مزید کہا گیا کہ ترکیہ کو نشانہ بنانے والی ایسی بے بنیاد اور گمراہ کن رپورٹس دراصل بین الاقوامی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ہمارے ملک کی کاوشوں کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں، عوام الناس سے گزارش ہے کہ ایسی غلط معلوماتی خبروں پر یقین نہ کریں۔

دوسری جانب، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وعدہ کیا کہ اس واقعے میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا جب کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے حکام کو ہدایت دی کہ اس واقعے کے ہر مجرم کا سراغ لگا کر اسے گرفتار کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا کے گیا تھا کہ کہا گیا ہے اور

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت