بھارتی فوج کے ہاتھوں 6 ماؤ نواز باغی ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی فوج نے ماؤ نواز گوریلوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 6 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا ۔ یہ کارروائی ان گوریلوں کے کئی ہفتے پہلے کیے گئے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ماؤ نواز گوریلوں نے کئی دہائیوں پر پھیلی اپنی مسلح جدوجہد کو روکنے کا اعلان کیا تھا۔ بھارت نے ان ماؤ نوازوں کے خلاف بھرپور جارحانہ مہم کا اعلان ماہ مارچ میں کیا تھا تاکہ ان کا صفایا کر سکے۔ تازہ ترین کارروائی بھارتی سیکورٹی فورسز نے چھتیس گڑھ کے علاقے بیجاپور میں کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں کے ساتھ ہونے والی شدید جھڑپ کے بعد ہم نے جنگل سے لاشیں نکال لی ہیں۔ سیکورٹی فورسز نے پولیس کی مدد سے مشترکہ آپریشن شروع کیا اور 6 باغیوں کو ہلاک کیا، جبکہ بھاری مقدار میں اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا ہے۔پولیس کے مطابق باغیوں کے سینئر کمانڈر مارے گئے ہیں، تاہم انہوں نے اس کی تفصیل نہیں دی ہے۔یاد رہے کہ تقریباً 2ماہ پہلے ماؤ نواز باغیوں نے اپنی مسلح کارروائیوں کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا اور پیشکش کی تھی کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کو تیار ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شا نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا جو بھی ہتھیار ڈالنا چاہے ہم اس کا خیر مقدم کریں گے اور جو بندوق نہیں چھوڑنا چاہے ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔ 1967 ء سے بھارتی دیہاتوں میں جاگیرداروں کے خلاف شروع ہونے والی اس ماؤ نواز تحریک سے وابستہ اب تک 12 ہزار افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔