data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیجنگ: چین میں دریافت ہونے والی ایک حیران کن انگور کی بیل نے دنیا بھر کے سائنسی اور نباتاتی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔

یہ نایاب بیل جس کی عمر 416 برس بتائی گئی ہے، گینیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق دنیا کی سب سے پرانی انگور کی بیل قرار پائی ہے۔ یہ بیل چین کے جنوب مغربی علاقے تبت کی بلند و بالا پہاڑیوں میں واقع زوگینگ کاؤنٹی میں دریافت ہوئی، جہاں اس کا تعلق ایک قدیم دیہی علاقے سے ہے۔

اس غیر معمولی دریافت کا آغاز اس وقت ہوا جب چینگڈو سٹی کے تاریخی اور نایاب درختوں کی ایک تفصیلی سروے مہم کے دوران یہ بیل سامنے آئی۔

ماہرین نباتات نے جب اس کا معائنہ کیا تو اس کی جسامت، ساخت اور تنا کی موٹائی نے انہیں حیرت میں ڈال دیا۔ مزید سائنسی تجزیے کے لیے اسے چین کی ساؤتھ ویسٹ فارسٹری یونیورسٹی کے ووڈ سائنس ریسرچ لیبارٹری میں لے جایا گیا، جہاں خصوصی آلات اور سائنسی طریقوں کے ذریعے اس کی درست عمر کا تعین کیا گیا۔

تحقیقی ٹیم نے رِنگ انالسز (Ring Analysis) کے ذریعے بیل کے تنوں اور لکڑی کی پرتوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے ثابت کیا کہ یہ پودا 1600ء کے قریب زمین میں اُگا تھا۔ یعنی یہ بیل اس وقت جوان تھی جب دنیا کے مختلف حصوں میں یورپی مہم جو نئے براعظموں کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔

ستمبر 2024 میں گینیز ورلڈ ریکارڈ کی جانب سے اس بیل کی عمر 416 سال تسلیم کی گئی، جس کے بعد اسے دنیا کی سب سے قدیم انگور کی بیل کا باضابطہ درجہ دیا گیا۔

ماہرین کے مطابق یہ بیل سطحِ سمندر سے تقریباً 2400 میٹر کی بلندی پر واقع ہے، جہاں ٹھنڈا موسم، نمی اور مٹی کی خاص ساخت نے اس کے طویل عرصے تک زندہ رہنے میں مدد دی۔ اس کی اونچائی تقریباً 26 فٹ اور چوڑائی دو فٹ سے زائد بتائی گئی ہے۔ بیل کی جڑیں پہاڑ کی پتھریلی مٹی میں گہرائی تک پیوست ہیں، جس کی وجہ سے یہ صدیاں گزرنے کے باوجود زندہ اور فعال ہے۔

چینی ماہرین نے اس دریافت کو نہ صرف ایک سائنسی کامیابی قرار دیا ہے بلکہ اسے چین کی قدرتی وراثت اور تاریخی تسلسل کی علامت بھی کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بیل ماحولیاتی توازن اور پائیداری کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ فطرت اگر محفوظ رکھی جائے تو صدیوں تک اپنی اصل حالت میں قائم رہ سکتی ہے۔

گنیز ورلڈ ریکارڈز کے اعلان کے بعد یہ بیل سیاحوں کے لیے ایک نئی توجہ کا مرکز بن چکی ہے اور مقامی انتظامیہ نے اسے قومی ورثہ قرار دینے کی تیاری شروع کردی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انگور کی بیل یہ بیل

پڑھیں:

اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار

روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟