13 سالہ چینی تیراک یو زیدی نے نیشنل گیمز میں ایشیائی ریکارڈ قائم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
لندن (ویب ڈیسک)کم عمر اسٹار یو زیدی نے چین کے نیشنل گیمز، شینژن میں شاندار تیراکی کے ساتھ ایشین ریکارڈ قائم کر کے دنیا بھر کے تیراکی کے شائقین کو حیران کر دیا ہے۔
خبر رساں اداروں ’اے ایف پی‘ اور ’رائٹرز‘ کے مطابق 13 سالہ یو زیدی نے 11 نومبر کو خواتین کے 200 میٹر انفرادی میڈلے میں 2 منٹ 7 اعشاریہ 41 سکینڈز کے ٹائم کے ساتھ سونے کا تمغہ اپنے نام کیا۔
شمالی صوبہ ہیبئی سے تعلق رکھنے والی اسکول طالبہ نے اپنی ہم وطن تیراک یے شی وین کا 2012 کے لندن اولمپکس میں بنایا ہوا 2 منٹ 5 اعشاریہ 57 سیکنڈز کا ریکارڈ بھی توڑ دیا، یہ وہ وقت تھا جب یو زیدی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں۔
شین ژن میں یو زیدی کی اس کارکردگی کو دیکھ کر شائقین حیرت زدہ رہ گئے، باصلاحیت تیراک کا یہ دنیا بھر میں تاریخ کا 9واں تیز ترین ریکارڈ بھی بن گیا ہے۔
شاندار کارکردگی سے کم عمر تیراک رواں برس دنیا کی دوسری تیز ترین خاتون تیراک بھی بن گئی ہیں، وہ صرف کینیڈا کی عالمی ریکارڈ ہولڈر سمر میکِنٹاش سے پیچھے ہیں۔
یو زیدی نے اس ریس میں اپنے انفرادی بہترین وقت سے تقریبا 2 سیکنڈ بہتر کارکردگی دکھائی، جو انہوں نے جولائی میں سنگاپور میں قائم کیا تھا۔
یو نے بین الاقوامی منظرنامے پر پہلی بار سنگاپور میں اپنا نام کمایا، جب وہ ورلڈ ایکواٹک چیمپئن شپ میں تمغہ جیتنے والی تاریخ کی سب سے کم عمر تیراک بنی تھیں، انہوں نے چین کی فور ایکس 200 میٹر فری اسٹائل ریلے ٹیم کا حصہ بن کر کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔
انہوں نے اپنی تینوں انفرادی ریسوں، 400 میٹر میڈلے، 200 میٹر بٹر فلائی، اور 200 میٹر میڈلے میں چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی۔
اگر ان کی کارکردگی کا تسلسل اسی طرح برقرار رہا، تو وہ مستقبل میں بین الاقوامی مقابلوں بشمول لاس ایننجلس اولمپکس 228 میں ایک بڑی حریف بن سکتی ہیں۔
ہیبئی میں تربیت حاصل کرنے والی یو زیدی تعلیمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ تیراکی بھی کرتی ہیں، انہوں نے 6 سال کی عمر میں تیراکی شروع کی تھی۔
یو نے گزشتہ سال قومی سطح پر توجہ حاصل کی اور ان کا موازنہ یے شی وین سے کیا جانے لگا، جنہوں نے 16 سال کی عمر میں لندن اولمپکس میں طلائی تمغہ جیت کر چین کی سب سے کم عمر اولمپک میڈلسٹ بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
یو زیدی نے منگل کے روز اپنی فتح کے بعد سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت خوش اور بہت زیادہ پرجوش ہوں، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اتنا اچھا نتیجہ حاصل کروں گی۔
یو کی اس کامیابی نے چین میں بہت زیادہ توجہ حاصل کی ہے، جہاں وہ پہلے ہی ایک اسٹار بن چکی ہیں، ان کی جیت اور نئے ایشیائی ریکارڈ سے متعلق ویبو (چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم) پر 11 ملین ویوز ہو چکے تھے۔
تاہم یو نے کہا کہ انہیں عوامی توجہ سے کوئی خاص احساس نہیں ہوتا، بس اپنی پوری کوشش کرنا اور سخت محنت سے تربیت لینا کافی ہے۔
یو زیدی پیر کو 400 میٹر میڈلے میں حصہ لیں گی، یہ وہ ایونٹ ہے جو وہ مئی میں نیشنل سوئمنگ چیمپئن شپ کے دوران بھی جیت چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یو زیدی نے انہوں نے حاصل کی
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔