Islam Times:
2026-07-24@07:48:02 GMT

اسٹریٹیجیک ڈیتھ

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

اسٹریٹیجیک ڈیتھ

اسلام ٹائمز: ہم سے غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے طالبان کی تخلیق کے بعد ان کی فوجی تربیت کی ذمے داری تو جنرل نصیراللہ بابر کو دے دی لیکن ان کی نظریاتی تربیت کے لیے ایک ایسے خاص مسلک کے ترجمانوں سے رہنمائی حاصل کی جنہوں نے ان کے ذہنوں میں ایک خاص قسم کی مذہبیت اور فرقہ واریت کا بیج بویا اور یوں ان کا جہاد ایک فساد کی شکل اختیار کر گیا۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

سوویت یونین کے قبضے کے خلاف امریکہ کی قیادت اور مدد سے جس ”جہاد“ کا آغاز ہوا تھا، اس وقت بھی ایک خاص فکری سطح کے حامل ارباب اہل نظر اسے جہاد نہیں سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ امریکہ کی سرپرستی میں لڑی جانے والی جنگ میں اگر کامیابی بھی حاصل ہوگئی تو وہ کامیابی کبھی بابرکت نہیں ہوگی اور اس کامیابی کے نتیجے میں حاصل ہونے والا مال غنیمت کبھی ہضم نہیں ہو سکے گا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس فتح کے بعد ہمارے دامن میں جو کچھ آیا بالآخر اس نے ہمارے دامن کو ہی جلا کر رکھ دیا۔

جن طالبان کو ہم ”Stratigic Depth“ سمجھتے تھے وہ ہمارے لیے ”Stratigic Death“ کا سامان لے کر آئے۔ ہم نے جس عفریت کو اپنے حصار میں لانے کے لیے چلے کاٹے تھے وہ ایک دن ہمارے سر کاٹنے لگا۔ ہم سے غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے طالبان کی تخلیق کے بعد ان کی فوجی تربیت کی ذمے داری تو جنرل نصیراللہ بابر کو دے دی لیکن ان کی نظریاتی تربیت کے لیے ایک ایسے خاص مسلک کے ترجمانوں سے رہنمائی حاصل کی جنہوں نے ان کے ذہنوں میں ایک خاص قسم کی مذہبیت اور فرقہ واریت کا بیج بویا اور یوں ان کا جہاد ایک فساد کی شکل اختیار کر گیا۔

آج ہم ان کی دہشت پسندانہ کاروایوں کو روکنے کے لیے جو فوجی کاروائی کرنا چاہتے ہیں اس سے ان کے جسموں کے چھیتڑے تو اڑ سکتے ہیں لیکن ان کے مرغ خیال کو شکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کی نظریاتی اساس پر ضرب لگائی جائے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آج جب کبھی بھی ان کے خلاف کسی آپریشن کی بات کی جاتی ہے تو ان کے فکری اور نظریاتی رہنما اس آپریشن کے مقابلے میں دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے ہم نے ہی کبھی ان رہنماوں کو ان انتہا پسندوں کو ہیرو بنانے کا ٹاسک دیا تھا اور اب انہیں ہیرو سے زیرو بنانے کے لیے ہمیں مشکل درپیش ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف