خواجہ آصف کا حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے پیش نظر افغانستان میں کارروائی کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
خواجہ آصف کا حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے پیش نظر افغانستان میں کارروائی کا عندیہ WhatsAppFacebookTwitter 0 12 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر افغانستان میں کارروائی کا عندیہ دے دیا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو نظرانداز نہیں کرے گا اور اگر افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا معاملہ مزید بگڑا تو پاکستان بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی مذمت یا افسوس کا اظہار محض لفظوں تک محدود ہے یہ سچائی کا ثبوت نہیں ہے، افغان طالبان کی پناہ گاہوں سے دہشت گرد ہمارے خلاف مسلسل حملے کر رہے ہیں، حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں زیادہ تر افغان دہشت گرد ملوث ہیں اور پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وانا کیڈٹ کالج میں پاک فوج کے آپریشن کے دوران اللہ کی مہربانی سے کیڈٹس کی جان بچائی ہے۔
خواجہ آصف نے بھارت کے حوالے سے بھی کہا کہ بھارت افغانستان کے راستے پاکستان کے خلاف جارحیت کر رہا ہے اور کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے ہمسایہ ملک کا دشمنی والا رویہ کھل کر سامنے آ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے حوالے سے ہمیشہ ہائی الرٹ پر ہیں اور اس کے عزائم کو جانچ کر جواب دینے کی تیاری رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دوست ممالک کوئی دوا کرنا چاہتے ہیں توضرور کریں، افغان طالبان کی زبانی باتوں پر افغانستان میں کوئی بھروسہ نہیں کرتا تو ہم کیسے کر لیں، ثالثوں کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں کہ اس کے پیچھے بھارت ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ سے دہشتگردوں کو پیسے ملتے ہیں، افغانستان سے متعلق دستیاب تمام سفارتی آپشنز استعمال کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرستائیسویں آئینی ترمیم کی آج منظوری کا امکان؛ حکومت وفاقی آئینی عدالت کے جلد قیام کی خواہاں ستائیسویں آئینی ترمیم کی آج منظوری کا امکان؛ حکومت وفاقی آئینی عدالت کے جلد قیام کی خواہاں جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ نے ستائیسویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست دائر کر دی برطانیہ کا اسلام آبادکچہری کے باہرخود کش دھماکے پر تشویش کا اظہار خودکش حملہ آور باجوڑ میں رہائش پذیر تھا، اسلام آباد کچہری حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار اسلام آباد کچہری میں خودکش دھماکے پر امریکا کا پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی الیکشن کمیشن نے وزیر مملکت طلال چوہدری کے خلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس لے لیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افغانستان میں خواجہ آصف کے واقعات
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔