صدر مملکت اور وزیراعظم کی ملاقات، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایوانِ صدر میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے حالیہ دہشت گردانہ واقعات، جن میں اسلام آباد کچہری دھماکا اور وانا کے کیڈیٹ کالج پر حملہ شامل ہیں، کی شدید مذمت کی۔ صدر زرداری اور وزیراعظم نے عزم ظاہر کیا کہ غیر ملکی پشت پناہی یافتہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں مکمل خاتمے تک جاری رہیں گی۔
ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، اور وفاقی وزرا سید محسن رضا نقوی، چوہدری سالک حسین، اعظم نذیر تارڑ، خالد حسین مگسی اور عبدالعلیم خان بھی موجود تھے۔
رہنماؤں نے ملک میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر اقدامات جاری رکھنے کا عزم دہرایا، تاکہ شہری علاقوں اور سرحدی علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔
ویب ڈیسک
وہاج فاروقی
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔