مغرب کے پاس کوئی چارہ نہیں کہ وہ اب ایران کی سائنسی ترقی کو تسلیم کرلیں: ایرانی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مغرب کے پاس کوئی چارہ نہیں کہ وہ اب ایران کی سائنسی ترقی کو تسلیم کرلے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایٹمی اینرجی آرگنائزیشن کے دورے کے موقع پر ایران کی ایٹمی میدان میں ترقی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک اس معاملے میں کبھی اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
ایرانی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیتوں میں یورینیم کی افزودگی میں صحت و طب، ماحولیات کے تحفظ زراعت اور صنعتی میدان میں بڑے پیمانے پر استعمال کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے کہا مغربی ممالک کو یہ اعتراض ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیار بنارہے ہیں جبکہ ہم اپنے ملک میں ایٹمی میدان سے سائنسی ترقی کی جانب گامزن ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے اس حساس اور پیچیدہ میدان میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے جس پر مغرب اپنی اجارہ داری قائم کرنے کا خواہشمند ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔