ملائیشیا: روہنگیا پناہ گزینوں کی کشتی ڈوب گئی،7 جاں بحق، سیکڑوں لاپتہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
ملائیشیا کے قریب سمندر میں روہنگیا پناہ گزینوں کی کشتی ڈوب گئی، حادثے میں 7 افراد جاں بحق جبکہ سیکڑوں لاپتہ ہوگئے ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ملائیشیا کی میری ٹائم اینفورسمنٹ ایجنسی کے سربراہ روملی مصطفیٰ نے بتایا ہے کہ حادثے کے بعد 7 لاشوں کو سمندر سے برآمد کیا گیا ہے جس میں 5 خواتین اور ایک بچی شامل ہے۔
ملائیشین حکام نے بتایا ہے کہ حادثے کے وقت متاثرہ تھائی لینڈ کے تاروتاؤ جزیرے کی جانب سے ملائیشین جزیرے لنگکاوی کے شمال میں سمندر عبور کر رہی تھی۔
ریسکیو حکام نے لنگکاوی جزیرے سے 170 ناٹیکل میل کے رقبے میں میانمار سے 3 دن قبل روانہ ہونے والی کشتی میں سوار 300 افراد کی تلاش جاری رکھی ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کے زیر انتظام پناہ گزینوں کے ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادو شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے نومبر کے آغاز تک 5 ہزار 100 سے زائد روہنگیا افراد میانمار اور بنگلادیش سے فرار ہونے کے لیے کشتیوں کا استعمال کرچکے ہیں جن میں سے اب تک 600 افراد ہلاک یا لاپتہ بھی ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔