ملائیشیا ، تھائی لینڈ کی سرحد پر تارکین وطن کی کشتیاں ڈوب گئیں، 300 افراد لاپتہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
کوالالمپور(ویب ڈیسک) ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب تین کشتیوں کے ڈوبنے کے دلخراش واقعے میں 300 سے زائد تارکین وطن لاپتہ ہوگئے، جبکہ 10 افراد کو زندہ بچالیا گیا اور ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
بین الاقوامی خبر ایجنسی کے مطابق ملائیشین میری ٹائم اتھارٹی نے بتایا کہ واقعہ تین دن قبل پیش آیا جب متعدد کشتیوں نے غیر قانونی طور پر ملائیشیا میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ کشتیوں میں میانمار، روہنگیا اور بنگلا دیشی تارکین وطن سوار تھے۔
رپورٹس کے مطابق، ابتدائی طور پر 300 سے زائد افراد ایک بڑے جہاز میں سوار تھے، جنہیں بعد میں تین چھوٹی کشتیوں میں تقسیم کیا گیا — ہر کشتی میں تقریباً 100 افراد موجود تھے۔ ان میں سے دو کشتیوں کے لاپتہ ہونے اور ایک کے ڈوبنے کی تصدیق کی گئی ہے۔
ملائیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے اور تلاش کے لیے بحری و فضائی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کشتیوں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے تحت روانہ کی گئی تھیں جو اکثر خطرناک راستوں سے گزر کر مسافروں کی جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔