پاکستان کا وژن دوحہ اعلامیہ کی روح سے ہم آہنگ ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری نے سماجی انصاف، جامع ترقی اور عالمی یکجہتی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے غربت کے خاتمے، مہذب کام کو فروغ دینے اور سب کے لیے برابری اور انسانی حقوق کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب اور قطر انتہائی مثبت رہا، عطا اللہ تارڑ کی پریس کانفرنس
صدر مملکت منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں سماجی ترقی کے لیے دوسری عالمی سربراہی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
انہوں نے دوحہ سیاسی اعلامیہ کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامعیت اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کا وژن دوحہ اعلامیہ کی روح سے ہم آہنگ ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان عوام کو پالیسی کے مرکز میں رکھنے پر ثابت قدمی سے کاربند ہے۔ صدر مملکت نے پاکستان کی ترقی کیلئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا حوالہ دیا جس نے معالی معاونت، ہیلتھ کیئر اور تعلیم کے ذریعے 90 لاکھ خاندانوں کو بااختیار بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عالمی سطح پر سماجی تحفظ کے بہترین ماڈلز میں سے ایک کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ 5 سال میں خواندگی کو 90 فیصد تک بڑھایا اور ہر بچے کے اسکول جانے کو یقینی بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیے: قطر میں عالمی اجلاس، صدر زرداری پاکستان کی ترجیحات اور پالیسی فریم ورک پیش کریں گے
انہوں نے نیشنل یوتھ انٹرنشپ پروگرام اور گرین اینڈ ریزیلینٹ ہاؤسنگ پروجیکٹس جیسے اقدامات کا بھی ذکر کیا جن کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور مینگروو بحالی جیسے فطرت پر مبنی حل کے ذریعے کلائمیٹ ریزیلینس کو مضبوط بنانا ہے۔
صدر مملکت نے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے 240 ملین پاکستانیوں کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دوحہ اعلامیہ کو عملی شکل دینے کے لیے عالمی مالیاتی اصلاحات، قرضوں میں ریلیف، مساوی ٹیکس اور وسیع سماجی تحفظ کی ضرورت ہے اور دنیا کو وقار، مساوات اور یکجہتی کے تین ستونوں کے اردگرد متحد ہونا چاہیے۔
صدر مملکت نے فلسطین میں نسل کشی، نسل پرستی اور بڑے پیمانے پر فاقہ کشی کی مذمت کرتے ہوئے ایک منصفانہ اور دیرپا امن کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انصاف اور حق خودارادیت کے حصول میں دونوں جدوجہد ایک ہی سکے کے 2 رخ ہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ امن کانفرنس پیر کو مصر میں ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ اور عبدالفتاح السیسی مشترکہ صدارت کریں گے
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ترقی کا آغاز اور اختتام لوگوں کی بہتری سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر ہمدردی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دوحہ دوسری عالمی سربراہی کانفرنس صدر آصف علی زرداری قطر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دوسری عالمی سربراہی کانفرنس صدر ا صف علی زرداری کے لیے پاکستان آصف علی زرداری صدر مملکت نے کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب