آئین ذوالفقار علی بھٹو کا ایک تحفہ تھا، بلاول بھٹو نے اپنے نانا کے کارنامے کو دفن کر دیا: اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
---فائل فوٹو
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں عوام کے لیے کچھ نہیں، 1973ء آئین ذوالفقار علی بھٹو کا ایک تحفہ تھا، بلاول بھٹو زرداری نے اپنے نانا کے کارنامے کو دفن کر دیا۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران اسد قیصر نے کہا کہ عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا، اب لوگ انصاف کے لیے کہاں جائیں گے، پشاور سےجج کا اسلام آباد یا پنجاب تبادلہ کیا جائےگا تو وہ کیا سوچیں گے، کیسےکام کریں گے۔
اسد قیصر کا کہنا ہے کہ اب تو صرف اللّٰہ کی عدالت رہ گئی ہے، 27ویں ترمیم کے لیے 2 سینیٹرز کو دبایا گیا، اس وجہ سے ترمیم کی گئی، 18ویں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایمل ولی نے بھی 27ویں ترمیم کا ساتھ دیا، سیف اللّٰہ ابڑو کو پارٹی سے نکال دیا گیا، اس کےخلاف کارروائی کریں گے، جرگہ ہونے جا رہا ہے، جرگہ ہماری ایک روایت ہے۔
اسلام آباد مولانا فضل الرحمان 27ویں آئینی ترمیم.
اِن کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ معاملات ٹھیک نہیں ہیں، چاہتے ہیں جرگے ہوں جس میں تمام مکاتب فکر کے لوگ شامل ہوں، امید ہے امن جرگے میں تمام سیاسی جماعتیں شریک ہوں گی۔
اس سے قبل اسد قیصر پشاور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔
پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے درخواست پر سماعت کی۔
عدالت نے اسد قیصر کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسد قیصر کو کسی بھی درج مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے متعلقہ فریقین سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے درخواست پر سماعت ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔