امریکا نے شام پر عائد پابندیاں عارضی طور پر ختم کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
امریکا نے جون میں بھی شام پر عائد کچھ پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم قیصر سیریا سویلین پروٹیکشن ایکٹ کے تحت عائد پابندیاں برقرار تھیں۔ اسلام ٹائمز۔ شامی صدر احمد الشرع کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے، علاقائی امن، خطے اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ملاقات کے بعد شامی صدر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے شامی صدر پسند آئے اور ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ شام کامیاب ہو کیونکہ یہ مشرق وسطیٰ کا حصہ ہے"۔ ٹرمپ نے احمد الشرع سے تعمیری ملاقات کے بعد امریکی محکمہ خزانہ کی شام پر قیصر ایکٹ کے تحت عائد پابندیاں 6 ماہ کے لیے ختم کرنے کا اعلان کیا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ امریکی پابندیوں کا خاتمہ شام کی معیشت کی تعمیر میں مدد کے ساتھ ساتھ شہریوں کے لیے خوشحالی فراہم کرے گا۔ واضح رہے کہ قیصر ایکٹ 2019ء میں منظور ہوا تھا جس کا مقصد بشار الاسد حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔ قیصر ایکٹ کی پابندیاں شام کی سابقہ حکومت اور فوج کے ساتھ امریکی کاروباری تعلقات سے متعلق تھی، ان پابندیوں کے تحت امریکی کمپنیوں اور شہریوں کو شام کی حکومت یا فوج کے ساتھ کاروبار کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ امریکا نے جون میں بھی شام پر عائد کچھ پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم قیصر سیریا سویلین پروٹیکشن ایکٹ کے تحت عائد پابندیاں برقرار تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عائد پابندیاں کے تحت
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔