سلامتی کونسل دنیا میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں ناکام ہو رہی ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام مارگلہ ڈائیلاگ 2025 کا انعقاد کیا گیا، جس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شرکت کی۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مارگلہ ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت آج کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے اور ان مسائل سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارگلہ ڈائیلاگ 2025 سے خطاب کرنا میرے لیے باعث فخر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پیپلز پارٹی کی خواہش تھی کہ صدر کو استثنیٰ ملنا چاہیے پھر وہ استثنیٰ دیا گیا ، اسحاق ڈار
وزیر خارجہ نے کہا کہ سلامتی کونسل دنیا میں امن و امان اور استحکام برقرار رکھنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ انہوں نے فلسطین اور جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی ادارے کمزور ہوتے جا رہے ہیں، جس کے پیش نظر موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے آج سے مربوط پالیسیاں بنانا ضروری ہیں۔
اسحاق ڈار نے زور دیا کہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے آج سے اقدامات کرنا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیاں اپنا اثر ڈال رہی ہیں۔
اس موقع پر ڈپلومیٹس اور سیاسی شخصیات کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار مارگلہ ڈائیلاگ موسمیاتی تبدیلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار موسمیاتی تبدیلی اسحاق ڈار نے رہی ہے کہا کہ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔