27 ویں ترمیم؛ قومی اسمبلی میں کون سی پارٹی حمایت اور کون مخالفت کرے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
27 ویں ترمیم کی سینیٹ سے منظوری کے بعد بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس کے لیے وفاقی دارالحکومت میں سیاسی ہلچل ہے۔
ذرائع کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی سے منظوری کے لیے حکمران اتحاد کو دو تہائی واضح اکثریت حاصل ہے، جہاں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 224 ووٹ درکار ہیں جب کہ حکمران اتحاد کے پاس 236 کی اکثریت موجود ہے۔
قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے 125 اور پیپلزپارٹی کے 74 ارکان کی آئینی ترمیم کے لیے حمایت موجود ہے۔ اسی طرح ایم کیو ایم کے 22، مسلم لیگ ق 5 اور استحکام پاکستان پارٹی کے 4 اراکین بھی ترمیم کے حق میں ہیں۔
علاوہ ازیں مسلم لیگ ضیا 1، باپ پارٹی 1 اور 4 آزاد اراکین بھی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیں گے۔
دوسری جانب حکمران اتحاد میں شامل نیشنل پارٹی نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔