بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس میں شرکت کیلئے غیر ملکی وفود اسلام آباد پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس میں شرکت کیلئے غیر ملکی وفود اسلام آباد پہنچ گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 10 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس میں شرکت کیلئے سعودی عرب، آذربائیجان، ازبکستان، کینیا، فلسطین، مراکش، روانڈا، مالدیپ، ملائیشیا اور فلپائن کے وفود اسلام آباد پہنچ گئے۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس بین الاقوامی پارلیمانی تعاون کا تاریخی سنگِ میل ہے، بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس 11 تا 12 نومبر 2025ء اسلام آباد میں منعقد ہوگی، کانفرنس عالمی امن، ترقی اور بین الاقوامی پارلیمانی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
سینیٹر ندیم احمد بھٹو، سینیٹر سرمد علی ودیگر سمیت سینئر افسران کی جانب سے غیر ملکی مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا، سینیٹ آف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر جنرل طارق بن وحید نے متعدد وفود کا خیر مقدم کیا۔
سعودی عرب کے وفد کی قیادت نائب چیئرمین شوریٰ کونسل عبداللہ بن عدم فلاتعہ کر رہے ہیں، کینیا کے ڈپٹی سپیکر فراح مالم محمد اور فلسطینی سپیکر روحی احمد محمد فتوح کی قیادت میں وفود پاکستان پہنچے۔
آذربائیجان کے ڈپٹی سپیکر علی احمد یوف اور ازبکستان کے ڈپٹی چیئرمین صودق سیفووف کی سربراہی میں وفود شریک ہیں، مراکش کے سپیکر محمد ولد الرشید، روانڈا کے سینیٹ صدر فرانکیوس ژیویر اور مالدیپ کے سپیکر عبد الرحیم عبداللہ کے وفود بھی اسلام آباد پہنچ گئے۔
ملائیشیا کے نائب صدر ایوانِ بالا نور جزلان بن محمد اور فلپائن کے پارلیمانی وفد بھی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
بارباڈوس کے سپیکر آرتھر یوجین ہولڈر اور سیربیا کے ڈپٹی سپیکر ایڈن ڈرلیک کی قیادت میں وفود کا پاکستان آمد پر پرجوش استقبال کیا گیا، الجیریا کے پارلیمانی وفد کی قیادت رکنِ پارلیمنٹ سعد اروس کر رہے ہیں۔
بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی دوراندیش قیادت اور پارلیمانی سفارتکاری کا عملی مظہر ہے، اس سے مختلف ممالک کے پارلیمانی وفود کے درمیان باہمی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجے یو آئی کا 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ ستائیسویں آئینی ترمیم پر سینیئرز وکلا اور ریٹائرڈ ججز کا چیف جسٹس پاکستان کو خط، اہم مطالبہ کر دیا ’ہم تو ویسے بھی بیچارے ایسے ہی ہیں یہاں‘، آئینی عدالت سے متعلق جسٹس منصور علی شاہ کے دلچسپ ریمارکس ستائیسویں ترمیم پاس ہوگئی، 28 ویں ترمیم کی تیاری کریں، فیصل واوڈا ستائیسویں آئینی ترمیم پر کسی قسم کا ڈیڈلاک نہیں، عطاءاللہ تارڑ حیرت ہے جنہوں نے الیکشن کا فیصلہ دیا، پھر ڈویژن بینچ میں بیٹھ کر معطل کر دیا، جسٹس محسن ستائیسویں آئینی ترمیم کیلیے نمبرز پورے ہونے کے سوال پر اسحاق ڈار کا جوابCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد پہنچ گئے کی قیادت کے ڈپٹی
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔