لاہور ہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ پیڈل کورٹس نیا فیشن ہے، پارکس میں پیڈل کورٹس بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران ممبر جوڈیشل کمیشن نے بتایا کہ رات 11 بجے کے بعد بہت زیادہ ہیوی ٹریفک شہر میں چلتی ہے، اس کی مانیٹرنگ کا کوئی مناسب نظام موجود نہیں ہے۔

ممبر جوڈیشل کمیشن کا کہنا تھا لاہور میں 46 مقامات پر ٹریفک پولیس کا عملہ تعینات ہے، آج سے انہوں نے آپریشن شروع کر دینا ہے، جس پر عدالت نے ہدایت کی کہ جوڈیشل کمیشن ممبران ان پوائنٹس کو وزٹ کریں، یہ کام فروری سے شروع کیا ہوتا تو صورتحال بہت بہتر ہوتی۔

عدالت نے کہا کہ آپ لوگوں نے کام اکتوبر میں شروع کیا، ایک ماہ میں اس مسئلے کو ڈیل نہیں کر سکتے، ہر سال اکتوبر میں آ کر وہی بات دہرائی جاتی ہے، مجھےفروری مارچ سے آگے کا پلان شیئر کریں۔

ممبر جوڈیشل کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ پلانٹیشن کے حوالے سے بھی کافی کام ہونے والا ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ جب تک گاڑیوں کو چیک نہیں کریں گے چیزیں بہتر نہیں ہوں گی، صوبے بھر میں ہیوی ٹریفک کی آج سے ہی انسپیکشن شروع کی جائے۔

پی ایچ اے کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہر پارک میں کوئی نہ کوئی کھیلوں کی سہولیات ہوتی ہیں، ہمارا پی ایچ اے ایکٹ کا سیکشن 10 اور 16 اجازت دیتا ہے ایسی سرگرمیوں کی۔

لاہور ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ پیڈل کورٹ کے لیےکتنی جگہ درکار ہوتی ہے؟ جس پر وکیل پی ایچ اے نے بتایا کہ پیڈل کورٹ کے لیے دو کنال کی جگہ درکار ہوتی ہے۔

فاضل جج نے کہا کہ یہ پیڈل کورٹس کا نیا فیشن آیا ہے، پارکس میں پیڈل کورٹ کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیا پیڈل کورٹ، پارک کا ماحول ڈسٹرب نہیں کرےگا؟ 8 کنال کے اندر سے دو کنال جگہ پر تو کورٹ نہیں بنایا جا سکتا۔

عدالت کا کہنا تھا قانون توڑ کر تو ریونیو پیدا نہیں کیا جا سکتا، آپ نے سارے شہر میں اشتہارات کے لیے بورڈ لگا دیے ہیں، ابھی میں نے اشتہارات کے بورڈز پر ایکشن نہیں لیا، آپ قانون پڑھ کر بتائیں جہاں ایسی اجازت دی گئی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا قانون کے تحت آپ پارکوں میں ریسٹورینٹ تو نہیں بنا سکتے، آپ پارکوں کے ماحول کو ڈسٹرب نہیں کر سکتے، پارک کے اندر باربی کیو ریسٹورنٹ کے لیےکتنی جگہ استعمال کی گئی ہے؟

وکیل پی ایچ اے نے کہا مجھےکل تک کا وقت دیں، ہم جگہ چیک کرکےبتادیں گے، جس پر لاہور ہائیکورٹ کا کہنا تھا پی ایچ اے میں ریسٹورینٹس پر تو پہلے بھی میرا فیصلہ موجود ہے، اس حوالے سے متعدد فیصلے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: لاہور ہائیکورٹ جوڈیشل کمیشن کا کہنا تھا پیڈل کورٹ پی ایچ اے نہیں کر نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم

حکومتِ پنجاب نے ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے شہریوں کے لیے ایک بہترین اور زبردست سہولت والے اقدام کا اعلان کیا ہے۔

حکومتی فیصلے کے مطابق اب صوبے بھر میں گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والوں کو ہر وقت پلاسٹک یا کاغذی ڈرائیونگ لائسنس اپنے ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ان کے موبائل فون میں موجود ’ای ڈرائیونگ لائسنس‘ کو قانونی طور پر مکمل قابل قبول قرار دے دیا گیا ہے۔

ڈی ایل آئی ایم ایس کا جدید ڈیجیٹل نظام

پنجاب ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ نیا اور پیپر لیس نظام ’ڈرائیونگ لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (ڈی ایل آئی ایم ایس) کے تحت کام کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں 16 تا 18 سال کے بچوں کے ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا شروع

اس اسمارٹ ڈیجیٹل اقدام کا بنیادی مقصد روایتی کاغذی کارروائی اور لائسنس گم ہونے یا گھر بھول جانے کے باعث شہریوں کو چالان کے خوف سے نجات دلانا اور ٹریفک کے پورے نظام کو تیز رفتار اور مؤثر بنانا ہے۔

موبائل فون پر لائسنس دکھائیں اور چالان سے بچیں

نئے قوانین کے تحت اب سڑک پر موجود ٹریفک وارڈنز اور اہلکاروں کے لیے موبائل اسکرین پر دکھایا جانے والا ڈیجیٹل لائسنس ہی حتمی اور درست تصور کیا جائے گا۔

پولیس کے اعلیٰ حکام نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ٹریفک اہلکار، شخص یا ادارہ اس ڈیجیٹل لائسنس کو تسلیم کرنے سے انکار کرے، تو شہری اس کے خلاف فوری طور پر قانونی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

شکایت کے لیے واٹس ایپ نمبر اور ہیلپ لائن جاری

ٹریفک پولیس پنجاب نے شہریوں کی سہولت اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا انکار کی صورت میں فوری ایکشن کے لیے درج ذیل رابطے فراہم کیے ہیں، سرکاری ہیلپ لائن نمبر1787 جبکہ آفیشل واٹس ایپ نمبر 03184642936 ہوگا۔

مزید پڑھیں:دبئی کا ڈرائیونگ لائسنس پاکستان میں نہیں چلے گا، ٹریفک پولیس نے اوورسیز پاکستانی کا چالان کردیا

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں اور اہلکاروں کے لیے ای لائسنس کو قبول کرنا لازمی ہوگا اور اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ کار

شہری اپنا پورٹیبل ای ڈرائیونگ لائسنس انتہائی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں پنجاب حکومت کی آفیشل ویب سائٹ https://dlims.punjab.gov.pk/elicense پر جانا ہوگا، جہاں وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر اور دیگر مطلوبہ معلومات درج کر کے اپنا لائسنس دیکھ اور پی ڈی ایف فارمیٹ میں موبائل میں محفوظ کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پورٹیبل ٹریفک پولیس پنجاب ڈاؤن لوڈ ڈرائیونگ ڈی ایل آئی ایم ایس شہری لائسنس موبائل فون ہیلپ لائن

متعلقہ مضامین

  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ