پنجاب کابینہ نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی باضابطہ توثیق کر دی
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
پنجاب کابینہ نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی باضابطہ توثیق کر دی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں قرار دیا گیا کہ صوبے میں انتہاپسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے ملتان، راولپنڈی اور لاہور میں الیکٹرانک بسوں کے کرایوں میں اضافے کی تجویز مسترد کردی۔
کابینہ نے ایئر پنجاب پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے قیام جس کی ملکیت اسی کا قبضہ وژن کے تحت پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025ء اور لاہور راولپنڈی ہائی اسپیڈ ریل کے لیے ایم او یو کی منظوری دے دی۔
سابق ٹکٹ ہولڈرز نے کہا کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے، پاک فوج نے بھارت کو حالیہ جنگ میں شکست دی، پاکستان کے لیے ہمارے اسلاف اور آبا و اجداد نے قربانیاں دیں، ہم سب کالعدم ٹی ایل پی سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہیں۔
کابینہ نے سرکاری اسکولوں میں اسکول ٹیچرز انٹرن کی بھرتی کی بھی منظوری دے دی، ہائی ٹیک فارم میکنائزیشن فنانس پروگرام کے تحت سبسڈی پروگرام کی منظوری بھی دی گئی۔
کابینہ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہائی ٹیک فارم میکنائزیشن فنانس پروگرام کیلئے 10ہزار سے زائد درخواستیں آئیں، سپر سیڈر اور دیگر جدید آلات 60 فیصد سبسڈی پر مہیا کیے جائیں گے، کسان کارڈ فیز 2 کے تحت 100ارب تقسیم، پچھلے فیز سے 70 ارب کی ریکارڈ ریکوری ہوئی، کسان کارڈ سے قرض واپس کرنے پر 24 گھنٹے کے اندر دوسرے فیز کے پیسے مل جاتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے بھارہ کہو، سواں سمیت کئی علاقوں میں ٹی ایل پی کے دفاتر سیل کر دیے ہیں۔
پنجاب کابینہ نے لاہور تا راولپنڈی ہائی اسپیڈ ریل کے لیے ایم او یو کی منظوری دے دی، صوبائی کابینہ نے ایئر پنجاب پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے قیام کی منظوری دے دی۔
پرائم منسٹر کیش لیس اسٹرٹیجی کے تحت ریٹیلرز کے لیے کیو آر کوڈ کی منظوری دی گئی، محراب محفوظ روشن پنجاب کی منظوری بھی دے دی گئی۔
کابینہ نے مصر کے ساتھ زرعی اشتراک کار کے لیے ایم او یو کی منظوری دے دی، اس کے ساتھ ہی پنجاب سینٹر آف ایکسیلینس انسداد تشدد و انتہا پسندی کے بورڈ آف گورنر کی تشکیل کی منظوری بھی دے دی گئی۔
کابینہ نے ٹریفک جرمانہ اور پوائنٹ سسٹم کی مجوزہ سمری کی منظوری دے دی، نیشنل بینک پارک میں میوزیم اور یادگار تعمیر کرنے کے لیے فنڈز کی منظوری بھی دی گئی، میوزیم کی بحالی، بہتری اور اپ گریڈیشن کے لیے ماسٹر پلان کی منظوری دے دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کی منظوری دے دی کی منظوری بھی کابینہ نے ٹی ایل پی کے لیے کے تحت
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں