Jasarat News:
2026-07-24@13:34:29 GMT

کچے کے ڈاکو! پکے ہو گئے

اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے ہمارے ملک کے جاگیر داروں اور وڈیروں سے تعلقات ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جن کی رسائی اپنے اپنے علاقوں کی پولیس، اسپیشل پولیس سادہ یا باوردی عام کانسٹیبل سے لیکر تھانوں کے اعلیٰ افسران اور ایس ایچ اوز تک بلا کسی روک ٹوک اور بہت حد تک دوستانہ بلکہ ہم پیالہ و ہم نوالہ قائم ہیں اور ہماری سیکورٹی کے یہی لوگ ان ڈاکوئوں کے مخبر اور سہولت کار بھی ہیں اور یہ بے تکلف دوستانہ ہی ان ڈاکوئوں کی بقاء کا راز بھی ہے کیونکہ کسی بھی ایکشن سے پہلے ہی ان ڈاکوئوں تک وہ خبر پہنچا دی جاتی ہے جس کے باعث آج تک ان کا قلع قمع نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی آئندہ ایسی کوئی توقع ہے کیونکہ ان کے تعلقات ہماری سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ ہمارے ایوان زیریں اور بالا دونوں کے ارکان سے بھی خاص نوعیت کے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ یہ یا ان کی اولادیں خود بھی ہمارے ایوانوں میں بہ نفس نفیس موجود ہیں۔ ڈاکے تو کچے میں موجود ان کے اہلکار مارتے ہیں اور پیچھے کلف زدہ کپڑوں، ویسٹ کوٹ، دستار اور ٹوپیوں میں ملبوس معززین شہر، سردار اور وڈیروں کی ایک بڑی تعداد ان کی پشتیبانی اور مدد کے لیے موجود رہتی ہے یہی لوگ ان کے محافظ بھی ہیں اندرون سندھ اور پنجاب میں پھیلے پیری مریدی کے وسیع سلسلے سے بھی یہ ڈاکو خوب فیض اٹھاتے ہیں۔ ان جعلی سیدوں، پیروں، معززین شہر، اعلیٰ سرکاری افسران اور کوتوال کے توسط سے کچھ اغوا کنندگان تاوان کے بعد رہا ہو جاتے ہیں جبکہ ہمارے ملک کا غریب طبقہ گاؤں دیہات اور قصبوں میں بسنے والوں کی ایک بڑی تعداد پھر بھی بغیر اغوا ہوئے ان کو تاوان ادا کرنے کے پابند ہیں بصورت دیگر وہ اور ان کی نسلوں کو تا زندگی ان کی غلامی کرنا پڑتی ہے ان ڈاکوئوں کے اپنے قوانین اور اپنے ضابطے ہیں اور ان کی نجی جیلیں بھی ہیں جن میں ان کے ظلم تشدد اور بے رحمی کی ایک بڑی داستان زبان زد عام ہے۔

کیا یہ عجیب بات میری دلیل نہیں کہ گزشتہ، حالیہ اور ہمیشہ کے شدید مون سون بارشوں کے نتیجے میں آئے سیلاب کی وجہ سے کچے کے سارے علاقے تو ڈوب جاتے ہیں علاقے کے غریب کسان ہاری اور دیگر مظلوم طبقہ نقل مکانی پر مجبور ہو جاتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر ڈاکوؤں کی پناہ گاہیں پھر بھی محفوظ رہتی ہیں کیونکہ اصل میں یہ ڈاکو ان علاقوں کی مکین اور رہائشی سرے سے ہیں ہی نہیں وہ ہر وقت ہمارے آس پاس اور ہمارے ہی علاقوں میں رہائش پذیر رہتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ شعلے فلم کا گبر سنگھ اور پاکستانی فلموں کا سلطانہ ڈاکو کسی جنگل کی کھو یا غار میں رہتے ہوں۔ ان کی کوٹھیاں ہمارے پوش علاقوں میں موجود ہیں اور گھوڑوں کی جگہ یہ لوگ آج کل ویگو ڈالا استعمال کرتے ہیں۔

عام اصطلاح میں کچے کے ڈاکو سندھ اور پنجاب کے دریائی پٹی میں سرگرم ایک مجرم گروہ ہے وہ اغوا، بھتا خوری اور قتل سمیت اپنی پرتشدد سرگرمیوں کے لیے مشہور ہیں کچھ عرصہ پہلے تک تو ان ڈاکوئوں کی کارروائیاں کافی حد تک مخفی رہتی تھیں لیکن اب یہ ڈاکو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی خوب مارکیٹنگ کرتے ہیں اغوا شدہ شخص کو رسیوں اور آہنی زنجیروں میں جکڑ کر اور ان پر براہ راست تشدد کی لائیو کوریج کر کے وہ اپنے سہولت کاروں کے ذریعے اپنا پورا حصہ وصول کر لیتے ہیں اور بہتے خون اور پر تشدد کارروائی پر مبنی آمدنی سے ہر دو جانب پانچوں انگلیاں گھی اور سر کڑاہی میں غوطہ زن رہتی ہیں۔

یہی نہیں اب تو ان کی شورشیں اس حد تک بڑھ گئیں ہیں کہ گزشتہ کئی ماہ سے ان کی لوٹ مار کے پیش نظر سکھر ملتان موٹر وے کو رات میں نو گو ایریا قرار دیتے ہوئے گاڑیوں کو ہائی وے پولیس سیکورٹی کے ساتھ آگے روانہ کیا جاتا ہے اور بقول ہائی وے پولیس M 5 پر تقریباً 25 کلو میٹر علاقے کو غیر محفوظ قرار دے دیا گیا ہے ان بڑھتی وارداتوں کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ستمبر کی پانچ کو صادق آباد کی تحصیل نواز آباد میں تنویر اندھر گروہ نے M 5 پر متعدد گاڑیاں روک کر دس افراد کو اغوا کر لیا اور جن کی رہائی کے لیے تاوان کی خطیر رقم کا مطالبہ کیا معاملات کس طرح اور کتنی رقم کے عوض حل ہوئے راقم کو اس کا کوئی علم نہیں لیکن یہ میری کہی تمام باتوں کی سچائی کا ثبوت ہے کے کچے کے ڈاکو! اب کچے نہیں پکے ہوگئے ہیں ان کی طاقت اور تکنیک میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے جو ظاہر ہے کے ان کے پشتیبانوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

گزشتہ منگل یعنی اکیس اکتوبر 25 کو محکمہ داخلہ نے لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن میں ان ڈاکوئوں کو سر نگوں کرنے کے بجائے خود کو ان ڈاکوئوں کے آگے سرینڈر کرنے کی پالیسی اپناتے ہوئے یہ بیان دیا کے سندھ حکومت کی اس پالیسی کی بناء پر ان علاقوں میں ڈاکے اور اغوا برائے تاوان اور لاقانونیت کی بڑھتی وارداتوں میں کمی آئیگی محکمہ داخلہ کا ماننا ہے کہ ان کی اس پالیسی سے بہت سارے ڈاکو ہتھیار ڈال کر سماجی دھارے میں شامل ہو جائیں گے اور اچھے بچے بن کر اپنی بقیہ زندگی گزاریں گے، اس اعلان کے فوراً بعد ہی شکار پور پولیس لائنز میں 70 سے 72 کے قریب ان افراد کو جن کا دور دور تک ان واقعات سے کوئی تعلق تھا یا نہیں بھی تھا ڈاکو بنا کر سماج کے سامنے پیش کر دیا گیا کیونکہ اس طرح کے تمام کام ہمارے زندہ باد پاکستان میں بالکل ممکن ہیں۔

تصویر کے اس رُخ کے بعد دیکھیے اب تصویر کا دوسرا رُخ ہمارے یہی سیکورٹی ادارے اپنا مطلب حاصل کرنے میں کس قدر ماہر ہیں کہ جب ان کا دل کرے ملزم مجرم بن کر حوالہ زندان اور مجرم معصوم بن کر اپنی زہر آلود مسکراہٹ کے ساتھ معاشرے کا ایک معزز شخص بن جاتا ہے۔ دہائیوں سے کراچی کے سپر ہائی وے پر موجود افغان بستی جو اس شہر میں بدامنی چوری چکاری اور لوٹ مار کا سبب تھی اور عوام کے بار بار مطالبے کے باوجود اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکی تھی جب حکم ہوا گھنٹوں میں خالی کرا لی گئی اس لیے کے یہاں کے مکین ابھی اپنی وارداتوں میں کچے کے ڈاکوئوں کی طرح پکے نہیں ہوئے تھے یا پھر ان کے پیچھے ان کے وہ پشتیبانی موجود نہیں تھی جو کچے کے ڈاکوئوں کو حاصل ہے۔

شنید ہے کے مذکورہ افغان بستیوں میں سندھ کے متاثرہ سیلاب زدگان کو آباد کیا جائے گا جس کی کچھ خبریں سوشل میڈیا میں گردش کر رہی ہیں یہ بات اہلیان کراچی کو پھر سے کسی بے چینی اور بدامنی میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے لہٰذا اہلیان کراچی کا شد و مد کے ساتھ یہ مطالبہ ہے کہ ان خالی بستیوں کی دوبارہ آباد کاری سے اجتناب برتا جائے اور یہ بستیاں کسی بھی بلڈرز مافیا کے حوالے کرنے کے بجائے ان زمینوں کو اہلیان کراچی کے لیے سیر و تفریح کے پارک سرکاری فارم ہائوسز اور کھیل کے میدانوں اور قبرستانوں کے لیے مختص کیا جائے پچھلے کئی دہائیوں سے کراچی کی آبادی میں جس قدر اِضافہ ہوا ہے اس تناسب سے نئے گورستان اہلیان کراچی کی ضرورت ہیں کیونکہ شہر بھر میں موجود قبرستانوں میں اپنے مردوں کے دفن کے لیے منہ مانگی قیمت کی ادائیگی پر راضی لوگوں کو بھی کوئی جگہ نہیں ملتی۔

راشد منان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کچے کے ڈاکو ان ڈاکوئوں کے ساتھ ہیں اور کرنے کے ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟

گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔

کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا

اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔

گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔

یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں

گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔

پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی

ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گوگل گوگل پاسپورڈ

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک