2 نومبر کو جب شاہ رخ خان اپنی 60 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، تو پوری فلم انڈسٹری صرف ایک سپر اسٹار نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کا جشن منا رہی ہے جس کی انکساری، محبت اور دلکشی نے ہر دل میں جگہ بنائی ہے۔

شاہ رخ خان کی سالگرہ پر انہیں شاندار انداز میں یاد کرنے والے لوگوں میں شامل ہیں اداکارہ دیویا دتہ، جنہوں نے شاہ رخ سے اپنی پہلی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے ایک ایسا واقعہ سنایا جو واقعی کسی بولی وڈ فلم کے سین جیسا لگتا ہے۔

’ہم ٹکرا گئے… اور میری فائل اُڑ گئی‘

دیویا دتہ نے ایک انٹرویو میں بتایا’ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی، وینس آفس میں۔ میں اپنے پورٹ فولیو کے ساتھ ایک تنگ سی سیڑھی سے نیچے اتر رہی تھی اور وہ تیزی سے اوپر آ رہے تھے۔ ہم بالکل ایک دوسرے سے ٹکرا گئے اور میری فائل نیچے گر گئی۔‘

یہ بھی پڑھیے شاہ رخ خان نے 59 سال کی عمر میں جوان نظر آنے کا حیران کن راز فاش کردیا

 دیویا بتاتی ہیں کہ اس کے بعد جو ہوا، وہ شاہ رخ خان کا جادو تھا۔

’انہوں نے یہ دیکھے بغیر کہ میں کون ہوں، فوراً جھک کر میری تصویریں اٹھانا شروع کر دیں اور بولے ‘I’m sorry’۔ پھر جب نظر اوپر اٹھائی تو کہا، ‘اوہ! ہائے دیویا!’ ‘

’میں حیران رہ گئی… کہ وہ میرا نام جانتے ہیں!‘

نئی آنے والی اداکارہ کے لیے یہ لمحہ کسی خواب سے کم نہیں تھا۔

’ذرا میرا چہرہ سوچیں!‘ وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں۔ ’میں کچھ بول ہی نہیں پائی۔ سب سے خاص بات یہ تھی کہ وہ میرا نام جانتے تھے! میں نے پوچھا، ‘آپ کو میرا نام کیسے معلوم؟’ تو وہ مسکرائے اور بولے، ‘میں نے آپ کا نام اداکاروں کی شارٹ لسٹ میں دیکھا تھا۔‘

یہی ہے شاہ رخ خان ۔۔۔ حاضر دماغ، دلکش، اور کمال کے انسان۔

یہ بھی پڑھیں: وینیٹی وینز یا شاہی محلات؟ شاہ رخ خان اور رنویر سنگھ کی کروڑوں کی وینیٹی وین میں کیا خاص ہے؟

’ ویـر زارا‘ میں دوبارہ ملاقات

کئی سال بعد، دیویا دتہ اور شاہ رخ خان نے یـش چوپڑا کی فلم ’ویـر زارا (2004) میں ایک ‘ساتھ کام کیا۔ دیویا کے مطابق، ’وہی باہمی احترام اور خوبصورتی جو پہلی ملاقات میں تھی، فلم کے پردے پر بھی جھلکی۔‘

’شاید اُس دن میں اُن سے تھوڑا سا پیار کر بیٹھی تھی‘

دیویا دتہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں:

’میرا دل اُس دن تھوڑا سا ان پر فدا ہو گیا تھا۔ وہ صرف ایک اسٹار نہیں، ایک ایسا انسان ہیں جو لوگوں کے نام یاد رکھتے ہیں، اُن کی مدد کرتے ہیں اور اُنہیں اہم محسوس کرواتے ہیں۔‘

 ایک سپر اسٹار نہیں، ایک انسان

جب دنیا بھر کے مداح شاہ رخ خان کے 60 برس مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں، تو دیویا دتہ کی کہانی یاد دلاتی ہے کہ اسٹارڈم کے پیچھے ایک نرم دل، مہربان اور سادہ انسان چھپا ہے جو ہر دل کو چھو لیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انٹرٹینمنٹ دیویا دتہ شاہ رخ خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انٹرٹینمنٹ شاہ رخ خان پہلی ملاقات شاہ رخ خان

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف