لاہور کے جنرل اسپتال میں خواتین کی میتوں کا مردوں سے پوسٹ مارٹم کروانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
لاہور کے جنرل اسپتال میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی، خواتین کی میتوں کا پوسٹ مردوں سے کروائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز کو ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق جنرل اسپتال کے مردہ خانے میں خواتین میتوں کا پوسٹ مارٹم مرد عملے سے کرایا جانے لگا۔
اس حوالے سے ایک فوٹیج بھی وائرل بھی ہوئی جس میں خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مرد عملے کو کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ پوسٹ مارٹم کے دوران کسی لیڈی ڈاکٹر یا لیڈی میڈیکل آفیسر کی موجودگی نہیں تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم لیڈی ڈاکٹر یا لیڈی میڈیکل آفیسر کی موجودگی میں ہونا ضروری ہے، طبی اصولوں کے مطابق خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مرد عملے سے کرانا خلاف ضابطہ عمل ہے۔
ذرائع کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے لیڈی ڈاکٹر کی عدم موجودگی کے باوجود پوسٹ مارٹم جاری رکھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا پوسٹ مارٹم
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔