لاہور جنرل اسپتال میں خواتین کی لاشوں کا مرد عملے سے پوسٹ مارٹم کرانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: جنرل اسپتال لاہور میں خواتین کی میتوں کا پوسٹ مارٹم مرد عملے سے کرائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جو انسانی حقوق اور طبی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جنرل اسپتال کے مردہ خانے میں خواتین کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم لیڈی ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں مرد عملہ انجام دے رہا ہے۔
اس حوالے سے ایک فوٹیج بھی وائرل ہوئی ہے جس میں خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم مرد اہلکار کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ کسی خاتون ڈاکٹر یا میڈیکل آفیسر کی موجودگی نہیں دیکھی گئی۔
طبی ماہرین کے مطابق قانونی و اخلاقی اصولوں کے تحت خواتین کی میتوں کا پوسٹ مارٹم صرف لیڈی ڈاکٹر یا لیڈی میڈیکل آفیسر کی موجودگی میں کیا جانا چاہیے، تاہم اسپتال انتظامیہ نے مبینہ طور پر اس اصول کو نظرانداز کرتے ہوئے کارروائی جاری رکھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لیڈی ڈاکٹر کی عدم دستیابی کے باوجود اسپتال انتظامیہ نے پوسٹ مارٹم مکمل کرایا، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا پوسٹ مارٹم خواتین کی
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔