ٹرمپ ایشیا کے اہم دورے پر روانہ، چین اور جنوبی کوریا کے صدور سے ملاقات کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایشیا کے دورے پر روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ چین کے صدر شی جن پنگ سے اہم تجارتی مذاکرات کریں گے۔ ٹرمپ نے روانگی سے قبل کہا کہ وہ اس دورے کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کے لیے بھی تیار ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات انتہائی مثبت ثابت ہوگی اور چین مزید 100 فیصد محصولات سے بچنے کے لیے تجارتی معاہدہ کرے گا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات جنوبی کوریا میں ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چین تائیوان پر حملہ نہیں چاہتا، منصفانہ تجارتی معاہدے کی امید ہے، ٹرمپ
ٹرمپ کا پہلا پڑاؤ ملائیشیا ہوگا جہاں وہ آسیان سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وہ وہاں ملائیشیا کے ساتھ تجارتی معاہدہ اور تھائی لینڈ و کمبوڈیا کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کی نگرانی کریں گے۔
بعد ازاں، وہ جاپان پہنچیں گے جہاں نئی خاتون وزیراعظم سَناے تاکایچی سے ملاقات کریں گے۔ ٹرمپ نے جاپانی رہنما کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ سابق وزیراعظم شنزو آبے کی پالیسیوں کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
دورے کا سب سے اہم مرحلہ جنوبی کوریا میں ہوگا جہاں ٹرمپ صدر لی جے میونگ سے ملاقات، کاروباری رہنماؤں سے خطاب اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ عشائیہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: ریگن کی اینٹی ٹیرف تقریر والے اشتہار پر برہمی، ٹرمپ نے کینیڈا سے تجارتی مذاکرات منسوخ کر دیے
جمعرات کو ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات ہوگی، جس پر عالمی منڈیاں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ توقع ہے کہ دونوں رہنما تجارتی جنگ کے خاتمے کے لیے پیش رفت کریں گے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ فینٹینیل (نشہ آور دوا) کی اسمگلنگ کے مسئلے پر بھی بات کریں گے تاکہ منشیات کے عالمی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کو تیز کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سے ملاقات کریں گے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔