پاک افغان سرحد کی بندش سے تاجروں کو شدید نقصان
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251025-01-26
پشاور(صباح نیوز) پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت معطل ہونے کے باعث تاجروں کو شدید نقصان پہنچا ہے، حالیہ بارڈر بندش سے دونوں ممالک کو روزانہ تقریباً ایک ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ساتھ ہی پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارتی گزرگاہیں 12 اکتوبر سے بند ہیں۔ تجارت معطل ہونے سے
پاکستان میں اس وقت ٹماٹر کی قیمت نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ٹماٹر، جو پاکستانی کھانوں میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے، اس کی قیمت 300 روپے سے 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔کابل میں پاک-افغان چیمبر آف کامرس کے سربراہ خان جان الوکوزئی نے برطانوی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ کشیدگی کے بعد سے تمام تجارتی اور ٹرانزٹ سرگرمیاں بند ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دونوں جانب تقریباً ایک ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ دوطرفہ تجارتی حجم 2.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دونوں ممالک
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔