Express News:
2026-06-03@05:20:09 GMT

زلزلے

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

جس علاقے میں اسلام آباد تعمیر کیا گیا ہے وہ تھرسٹ زلزلوں کے زون میں ہے۔ آٹھ اکتوبر 2005 کے زلزلے کے حوالے سے بھی کچھ حقائق سامنے آئے۔ ایوب خان نے اسلام آباد شہر بنانے کا فیصلہ کیا تو یحییٰ خان کی سربراہی میں ایک جائزہ کمیٹی تشکیل دی۔

کمیٹی نے پورے پاکستان کا جائزہ لے کر دو جگہوں کو دارالحکومت کے لیے تجویز کیا، ایک تو پوٹھوہار میں موجودہ اسلام آباد کا علاقہ اور دوسرا وسطیٰ پنجاب میں جوہر آباد / خوشاب کا علاقہ، حتمی فیصلہ اسلام آباد کے حق میں ہوا۔

ماہرین نے جو رپورٹ دی اس کے مطابق اسلام آباد کی مجوزہ جگہ زلزلے کی فالٹ لائن پر ہے ۔ یہ علاقہ اگر کبھی شدید زلزلوں کے زون میں آ جائے تو اس کے لیے احتیاطی اور حفاظتی تدابیر ضرور کی جائیں۔

مزید لکھا گیاکہ اس علاقے میں پانی کی قلت کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں زیادہ بلند عمارتیں نہ بنائی جائیں، گھروں اور عمارتوں کے ساتھ لان اور کھلی جگہ ضرور چھوڑی جا ئے، ایک مکان سے دوسرے کے درمیان کم از کم دس فٹ کا فاصلہ ہو۔

برطانیہ کی بی جی ایس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کشمیر کے علاقے میں 1905میں بھی ایک شدید زلزلہ آیا جس کی قوت ریکٹر اسکیل پر 8.

6 تھی۔ اس وقت سے کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں کا شمار انتہائی شدید زلزلے والے زون میں شمار کیا جاتا ہے۔

1935میں کوئٹہ میں زلزلہ آیا ۔ آٹھ اکتوبر کا زلزلہ کشمیر اور اس کے ملحقہ ایسے علاقے میں آیا ۔ زلزلے کی وجہ سے پہاڑوں پر لینڈسلائیڈنگ بھی ہوئی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلوں کے خطرات کے اعتبار سے آزاد کشمیر، مانسہرہ، پوٹھوہار، شمالی علاقے اور خصوصاً چترال کا شمار زون ون میں ہوتا ہے۔

 یہACTIVE FAULT LINE اسلام آباد کے شمالی حصے ہزارہ سے ہوتی ہوئی مشرق میں آزاد کشمیر اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے کچھ حصوں سے گزرتی ہوئی مغرب میں چترال تک چلی جاتی ہے۔

چترال سے یہ لائن افغانستان کے کچھ حصوں سے گزرتی ہوئی کوہ ہندو کش کے پہاڑی سلسلے میں داخل ہوتی ہے، جہاں سے یہ FAULT لائن مغربی بلوچستان سے ہوتی ہوئی کوئٹہ پہنچتی ہے۔ کوئٹہ کے بعد وسطیٰ بلوچستان سے گزرتی ہوئی یہ بلو چستان کے ساحلی علاقوں سے شمالی بحرہ عرب میں داخل ہوتی ہے۔

پاکستان میں زلزلوں کے اعتبار سے اب تک جو حقائق سانے آئے ہیں ان کے مطابق پاکستان میں وسطیٰ پنجاب، جنوبی پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقے MAJOR FAULT LINE پر نہیں ہیں۔

پنچاب اور سندھ کے ریگستانی علاقے تھل، چولستان اور تھر زلزلوں سے محفوظ ہیں۔ اس لحاظ سے ’’جوہرآباد کا علاقہ‘‘ زلزلوں کے حوالے سے محفوظ ترین ہے۔ پنجاب اور سندھ کے ریگستانی علاقے تھل، چولستان، تھر کے صحرا اور ان کے ملحقہ علاقے کو بہت حد تک زلزلوں سے محفوظ شمار کیا جا رہا ہے۔

زلزلے دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک تھرسٹ اور دوسرے آتش فشانی زلزلے۔ تھرسٹ زلزلے وہ ہیں جو پلیٹوں کے رگڑ نے سے آتے ہیں۔ آتش فشانی زلزلے زمین کے اندر سے لاوا اگلنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

آتش فشانی زلزلوں کا مرکز زمین میں کافی گہرا ہوتا ہے۔ ان زلزلوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر تھرسٹ زلزلوں کی نسبت کم ہوتی ہے۔ آتش فشاں زلزلوں سے جو لاوا نکلتا ہے اس سے محدود علاقے میں ہی نقصان ہوتا ہے۔

ان زلزلوں کی شدت تھرسٹ زلزلوں سے کم ہوتی ہے۔ اب تک آتش فشاں زلزلوں کی زیادہ سے زیادہ شد ت ریکٹر اسکیل پر 6.6 ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ تھرسٹ زلزلوں کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے اور تھرسٹ زلزلوں کے اثرات کا دائرہ سیکڑوں کلومیٹر تک ہوتا ہے۔

ماہرین ارضیات نے زمین کی بناوٹ اور زلزلوں کی آمد کے حوالے سے جو بھی سائنسی تحقیق کی اور اندازے لگائے ہیں اس کے با وجود دنیا بھر کے سائنس دان اس پر متفق ہیں کہ زلزلوں کی وجوہات طے کرنے کے باوجود یہ قیاس آرائی یا پیش گوئی نہیں کی جا سکتی کہ زلزلے کب، کہاں اور کس وقت آئیں گے۔ یہ علم صرف اللہ تعالیٰ کی قارد مطلق ذات ہی کو ہے کہ زلزلہ کب، کس وقت اور کہاں آئے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تھرسٹ زلزلوں اسلام ا باد زلزلوں سے زلزلوں کے علاقے میں زلزلوں کی ہوتا ہے ہوتی ہے

پڑھیں:

کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد

بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد