Express News:
2026-07-24@13:07:31 GMT

زلزلے

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

جس علاقے میں اسلام آباد تعمیر کیا گیا ہے وہ تھرسٹ زلزلوں کے زون میں ہے۔ آٹھ اکتوبر 2005 کے زلزلے کے حوالے سے بھی کچھ حقائق سامنے آئے۔ ایوب خان نے اسلام آباد شہر بنانے کا فیصلہ کیا تو یحییٰ خان کی سربراہی میں ایک جائزہ کمیٹی تشکیل دی۔

کمیٹی نے پورے پاکستان کا جائزہ لے کر دو جگہوں کو دارالحکومت کے لیے تجویز کیا، ایک تو پوٹھوہار میں موجودہ اسلام آباد کا علاقہ اور دوسرا وسطیٰ پنجاب میں جوہر آباد / خوشاب کا علاقہ، حتمی فیصلہ اسلام آباد کے حق میں ہوا۔

ماہرین نے جو رپورٹ دی اس کے مطابق اسلام آباد کی مجوزہ جگہ زلزلے کی فالٹ لائن پر ہے ۔ یہ علاقہ اگر کبھی شدید زلزلوں کے زون میں آ جائے تو اس کے لیے احتیاطی اور حفاظتی تدابیر ضرور کی جائیں۔

مزید لکھا گیاکہ اس علاقے میں پانی کی قلت کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں زیادہ بلند عمارتیں نہ بنائی جائیں، گھروں اور عمارتوں کے ساتھ لان اور کھلی جگہ ضرور چھوڑی جا ئے، ایک مکان سے دوسرے کے درمیان کم از کم دس فٹ کا فاصلہ ہو۔

برطانیہ کی بی جی ایس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کشمیر کے علاقے میں 1905میں بھی ایک شدید زلزلہ آیا جس کی قوت ریکٹر اسکیل پر 8.

6 تھی۔ اس وقت سے کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں کا شمار انتہائی شدید زلزلے والے زون میں شمار کیا جاتا ہے۔

1935میں کوئٹہ میں زلزلہ آیا ۔ آٹھ اکتوبر کا زلزلہ کشمیر اور اس کے ملحقہ ایسے علاقے میں آیا ۔ زلزلے کی وجہ سے پہاڑوں پر لینڈسلائیڈنگ بھی ہوئی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلوں کے خطرات کے اعتبار سے آزاد کشمیر، مانسہرہ، پوٹھوہار، شمالی علاقے اور خصوصاً چترال کا شمار زون ون میں ہوتا ہے۔

 یہACTIVE FAULT LINE اسلام آباد کے شمالی حصے ہزارہ سے ہوتی ہوئی مشرق میں آزاد کشمیر اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے کچھ حصوں سے گزرتی ہوئی مغرب میں چترال تک چلی جاتی ہے۔

چترال سے یہ لائن افغانستان کے کچھ حصوں سے گزرتی ہوئی کوہ ہندو کش کے پہاڑی سلسلے میں داخل ہوتی ہے، جہاں سے یہ FAULT لائن مغربی بلوچستان سے ہوتی ہوئی کوئٹہ پہنچتی ہے۔ کوئٹہ کے بعد وسطیٰ بلوچستان سے گزرتی ہوئی یہ بلو چستان کے ساحلی علاقوں سے شمالی بحرہ عرب میں داخل ہوتی ہے۔

پاکستان میں زلزلوں کے اعتبار سے اب تک جو حقائق سانے آئے ہیں ان کے مطابق پاکستان میں وسطیٰ پنجاب، جنوبی پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقے MAJOR FAULT LINE پر نہیں ہیں۔

پنچاب اور سندھ کے ریگستانی علاقے تھل، چولستان اور تھر زلزلوں سے محفوظ ہیں۔ اس لحاظ سے ’’جوہرآباد کا علاقہ‘‘ زلزلوں کے حوالے سے محفوظ ترین ہے۔ پنجاب اور سندھ کے ریگستانی علاقے تھل، چولستان، تھر کے صحرا اور ان کے ملحقہ علاقے کو بہت حد تک زلزلوں سے محفوظ شمار کیا جا رہا ہے۔

زلزلے دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک تھرسٹ اور دوسرے آتش فشانی زلزلے۔ تھرسٹ زلزلے وہ ہیں جو پلیٹوں کے رگڑ نے سے آتے ہیں۔ آتش فشانی زلزلے زمین کے اندر سے لاوا اگلنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

آتش فشانی زلزلوں کا مرکز زمین میں کافی گہرا ہوتا ہے۔ ان زلزلوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر تھرسٹ زلزلوں کی نسبت کم ہوتی ہے۔ آتش فشاں زلزلوں سے جو لاوا نکلتا ہے اس سے محدود علاقے میں ہی نقصان ہوتا ہے۔

ان زلزلوں کی شدت تھرسٹ زلزلوں سے کم ہوتی ہے۔ اب تک آتش فشاں زلزلوں کی زیادہ سے زیادہ شد ت ریکٹر اسکیل پر 6.6 ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ تھرسٹ زلزلوں کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے اور تھرسٹ زلزلوں کے اثرات کا دائرہ سیکڑوں کلومیٹر تک ہوتا ہے۔

ماہرین ارضیات نے زمین کی بناوٹ اور زلزلوں کی آمد کے حوالے سے جو بھی سائنسی تحقیق کی اور اندازے لگائے ہیں اس کے با وجود دنیا بھر کے سائنس دان اس پر متفق ہیں کہ زلزلوں کی وجوہات طے کرنے کے باوجود یہ قیاس آرائی یا پیش گوئی نہیں کی جا سکتی کہ زلزلے کب، کہاں اور کس وقت آئیں گے۔ یہ علم صرف اللہ تعالیٰ کی قارد مطلق ذات ہی کو ہے کہ زلزلہ کب، کس وقت اور کہاں آئے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تھرسٹ زلزلوں اسلام ا باد زلزلوں سے زلزلوں کے علاقے میں زلزلوں کی ہوتا ہے ہوتی ہے

پڑھیں:

آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک

سیکیورٹی فورسز نے آپریشن العزم کے تحت مستونگ میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشت گرد ہلاک کردیے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن العزم کے تحت بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف بھرپور اور مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔ مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں کامیاب کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 4 دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا گیا۔ ہلاک دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ۔ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے زیر استعمال موٹر سائیکلیں بھی ضبط کرلیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مؤثر کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے متعدد دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں، جبکہ دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ آپریشن کے دوران علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں دہشت گردوں کی مذموم کارروائیوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مزید تیز کردیئے ہیں۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور خطے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • لاہور ڈیفنس فیز 5 میں گھر کی بیسمنٹ سے 53 سالہ شخص کی لاش برآمد
  • ایران کے جزیرہ قشم میں ایک جنگی طیارہ گرنے کی اطلاعات
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک
  • سونا مزید سستا، فی تولہ قیمت میں کتنی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی؟
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن