حادثاتی طور پر رہا 12قیدیوں میں سے2 تاحال فرار ہیں، ڈیوڈ لیمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
لندن (ویب ڈیسک) برطانوی جسٹس سیکریٹری ڈیوڈ لیمی نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں میں 12 قیدیوں کو حادثاتی طور پر رہا کیا گیا ہے جن میں سے دو ابھی تک فرار ہیں۔
مذکورہ قیدی ان 91 قیدیوں میں سرفہرست ہیں جنہیں اپریل اور اکتوبر کے درمیان انگلینڈ اور ویلز میں غلطی سے رہا کیا گیا تھا۔
برطانوی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیر انصاف اور نائب وزیراعظم ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ ہمیشہ غلطی انسان سے ہوتی ہے مگر جیلوں میں کاغذ پر مبنی نظام کو ڈیجیٹل نظام میں تبدیل کر کے حالات کو بہتربنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فرار ہونیوالے دو قیدی جنسی تشدد جیسے جرائم کے مقدمات میں ملوث نہیں تھے، تاہم ان کیسز کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتے یہ پولیس کے آپریشنل فیصلے ہیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ماضی میں پناہ گزین کی طرف سے ہوٹل میں چودہ سالہ لڑکی اور خاتون کیساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار ہونیوالے شخص کی رہائی بھی حالیہ بیانات کے بعد گردش کر رہی ہے۔
ہاؤس آف کامنز کے سامنے پیش ہونیوالے حالیہ انکشافات میں یہ بھی پتہ چلا کہ غلطی سے رہا ہونیوالے قیدیوں کی تعداد میں گزشتہ سال 128 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انگلینڈ اور ویلز میں 2024 اور 2025 میں 57 ہزار سے زائد قیدیوں کی رہائی ہوئی جنہوں نے اپنی سزاؤں کا بڑا حصہ مکمل کر لیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
مردان میں خاتون سمیت 3 افراد کے بہیمانہ قتل کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں واردات کے بعد مقتولین کے 2 بچوں کو ساتھ لے جانے والے ملزمان بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مردان کے علاقے شیخ ملتون میں گزشتہ روز پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں مسلح ملزمان نے خاتون سمیت 3 افراد کو قتل کر دیا تھا۔ واردات کے بعد ملزمان مقتولین کے 2 کمسن بچوں اور گاڑی کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے، جس پر علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:مردان، خواجہ سرا کو چھری کے وار سے قتل کردیا گیا
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ملزمان دونوں بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر نامعلوم مقام کی جانب فرار ہو گئے۔ بچوں کے محفوظ مل جانے پر اہل خانہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم ملزمان تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آ سکے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ ملزمان کے فرار کے راستوں کا بھی سراغ لگا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
حکام کا کہنا ہے کہ قتل کی اس واردات کے محرکات اور پس منظر کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس نے امید ظاہر کی ہے کہ جدید تفتیشی ذرائع اور دستیاب شواہد کی مدد سے ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
قتل مردان