کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر تین سالہ بچے کی ہلاکت پر بی آر ٹی ریڈ لائن پروجیکٹ کے مینیجر نے وضاحتی بیان جاری کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بی آر ٹی ریڈ لائن پروجیکٹ کے مینیجر نے نیپا چورنگی پر قائم مارٹ کے نزدیک پیش آنے والے افسوسناک واقعے سے متعلق بیان میں کہا کہ 30 نومبر 2025 کی رات تین سالہ بچے ابراہیم کی کھلے مین ہول میں گر کر ہلاکت انتہائی دل خراش سانحہ ہے اور پروجیکٹ انتظامیہ غمزدہ خاندان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔

ریڈ لائن بی آر ٹی کے مینیجر انوائرنمینٹل اینڈ سوشل سیف گارڈ نے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ واقعہ اُس مقام پر پیش آیا جو بی آر ٹی ریڈ لائن کے تعمیراتی علاقے سے خاصے فاصلے پر واقع ہے، جہاں نہ کوئی کھدائی جاری تھی، نہ بی آر ٹی کی کوئی مشینری، سرگرمی یا رکاوٹ موجود تھی۔

بیان میں کہا گیا کہ سڑک کی حالت بھی مکمل تھی اور واقعہ جس پرانے سیوریج چینل کے مین ہول میں پیش آیا، وہ بی آر ٹی ریڈ لائن کے انتظامی یا عملی دائرہ کار میں شامل نہیں۔

بی آر ٹی ریڈ لائن انتظامیہ نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر کا خط حقیقت کے برعکس تاثر پیدا کرتا ہے، جبکہ زمینی صورتحال اس کے بالکل خلاف ہے کیونکہ نہ تو واقعے کے مقام پر تعمیراتی سرگرمی ہوئی اور نہ آس پاس کوئی کام ہوا۔

بیان میں کہا گیا کہ کے بی آر ٹی کے تمام تعمیراتی کام متعلقہ اداروں سے این او سی حاصل کرنے کے بعد ہی شروع کیے جاتے ہیں اور کھدائی کی صورت میں جگہ کو فوراً بھر کر محفوظ بنایا جاتا ہے، پارکنگ ایریا جہاں سانحہ پیش آیا، وہ اسٹور کی ملکیت میں ہے اور بی آر ٹی کے کاموں سے کافی دور ہے، اس لیے اس سانحے کو بی آر ٹی ریڈ لائن پراجیکٹ سے جوڑنا غیر ذمے دارانہ اقدام ہے۔

بی آر ٹی ریڈ لائن انتظامیہ نے مزید بتایا کہ چونکہ بی آر ٹی ریڈ لائن پراجیکٹ ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے چل رہا ہے، اس لیے تعمیراتی مقامات پر سخت حفاظتی اصولوں (OHS) کا اطلاق کیا جاتا ہے اور ان کی مسلسل نگرانی ہوتی ہے۔

پراجیکٹ انتظامیہ نے یقین دلایا کہ وہ تمام فریقوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی اور تعمیراتی مقامات پر تحفظ کے اعلیٰ معیار برقرار رکھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بی آر ٹی ریڈ لائن میں کہا انتظامیہ نے

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار