نیپا چورنگی حادثہ، بی آر ٹی انتظامیہ نے کے ایم سی کے الزام کو سنگین قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر تین سالہ بچے کی ہلاکت پر بی آر ٹی ریڈ لائن پروجیکٹ کے مینیجر نے وضاحتی بیان جاری کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بی آر ٹی ریڈ لائن پروجیکٹ کے مینیجر نے نیپا چورنگی پر قائم مارٹ کے نزدیک پیش آنے والے افسوسناک واقعے سے متعلق بیان میں کہا کہ 30 نومبر 2025 کی رات تین سالہ بچے ابراہیم کی کھلے مین ہول میں گر کر ہلاکت انتہائی دل خراش سانحہ ہے اور پروجیکٹ انتظامیہ غمزدہ خاندان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔
ریڈ لائن بی آر ٹی کے مینیجر انوائرنمینٹل اینڈ سوشل سیف گارڈ نے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ واقعہ اُس مقام پر پیش آیا جو بی آر ٹی ریڈ لائن کے تعمیراتی علاقے سے خاصے فاصلے پر واقع ہے، جہاں نہ کوئی کھدائی جاری تھی، نہ بی آر ٹی کی کوئی مشینری، سرگرمی یا رکاوٹ موجود تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ سڑک کی حالت بھی مکمل تھی اور واقعہ جس پرانے سیوریج چینل کے مین ہول میں پیش آیا، وہ بی آر ٹی ریڈ لائن کے انتظامی یا عملی دائرہ کار میں شامل نہیں۔
بی آر ٹی ریڈ لائن انتظامیہ نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر کا خط حقیقت کے برعکس تاثر پیدا کرتا ہے، جبکہ زمینی صورتحال اس کے بالکل خلاف ہے کیونکہ نہ تو واقعے کے مقام پر تعمیراتی سرگرمی ہوئی اور نہ آس پاس کوئی کام ہوا۔
بیان میں کہا گیا کہ کے بی آر ٹی کے تمام تعمیراتی کام متعلقہ اداروں سے این او سی حاصل کرنے کے بعد ہی شروع کیے جاتے ہیں اور کھدائی کی صورت میں جگہ کو فوراً بھر کر محفوظ بنایا جاتا ہے، پارکنگ ایریا جہاں سانحہ پیش آیا، وہ اسٹور کی ملکیت میں ہے اور بی آر ٹی کے کاموں سے کافی دور ہے، اس لیے اس سانحے کو بی آر ٹی ریڈ لائن پراجیکٹ سے جوڑنا غیر ذمے دارانہ اقدام ہے۔
بی آر ٹی ریڈ لائن انتظامیہ نے مزید بتایا کہ چونکہ بی آر ٹی ریڈ لائن پراجیکٹ ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے چل رہا ہے، اس لیے تعمیراتی مقامات پر سخت حفاظتی اصولوں (OHS) کا اطلاق کیا جاتا ہے اور ان کی مسلسل نگرانی ہوتی ہے۔
پراجیکٹ انتظامیہ نے یقین دلایا کہ وہ تمام فریقوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی اور تعمیراتی مقامات پر تحفظ کے اعلیٰ معیار برقرار رکھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بی آر ٹی ریڈ لائن میں کہا انتظامیہ نے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.