وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
پاکستان اور بحرین ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں، وزیراعظم - فائل فوٹو
وزیراعظم شہباز شریف نے بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین کے سرمایہ کار پاکستان آئیں اور ہمارے ساتھ شراکت داری کریں۔
منامہ میں تقریب سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بحرین کے سرمایہ کار دونوں ممالک کی ترقی میں کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ بحرینی کاروباری برادری کے ساتھ نئی، دیرپا اور بامعنی اقتصادی راہیں کھولنے کے لیے تیار ہیں، ہم سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور کاروباری تعاون کے لیے ہرممکن سہولت فراہم کریں گے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور جی سی سی کا فری ٹریڈ معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، یہ معاہدہ تجارتی تعلقات کو نئی بلندی دے گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ملاقات کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بہترین استقبال پر بحرین کی حکومت اور عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، بحرین میں آکر ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے اپنے ہی گھر آیا ہوں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بحرین اور پاکستان دو برادر ملک ہیں، ہمارے تعلقات ثقافتی، مذہبی، باہمی احترام اور اعتماد کی بنیادوں پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کی اسٹریٹجک شراکت داری کئی برسوں سے قائم ہے، بحرین آنے کا مقصد اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنا اور اقتصادی شعبوں میں نئی پیشرفت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، فن ٹیک اور دیگر شعبوں میں تعاون ضروری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ بھائیوں جیسا تعلق یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں، پاکستان اور بحرین ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ ہم ان مضبوط تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس نوجوانوں کی بڑی طاقت ہے، نوجوان آبادی ایک چیلینج ہے، ایک بڑی نعمت اور موقع بھی ہے، نوجوانوں کو آئی ٹی، اے آئی، فنی تربیت اور جدید مہارتوں سے آراستہ کر رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ بحرین سے پاکستانیوں نے گزشتہ مالی سال میں 484 ملین ڈالر کی ترسیلات زر بھیجی، میں بحرین میں اعلیٰ قیادت کا پاکستانیوں کے لیے محبت اور تعاون پر دل سے شکر گزار ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف نے بحرین کے سرمایہ نے کہا کہ بحرین پاکستان اور کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں