وزیراعظم 2 روزہ دورے پر بحرین پہنچ گئے‘ گارڈ آف آنر پیش ‘ ولی عہد سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مناما (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور بحرین نے تجارت ایک ارب ڈالر تک لے جانے اور ویزا شرائط میں نرمی لانے پر اتفاق کیا ہے۔سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے بدھ کو مناما میں بحرین کے ولی عہد، بحرینی افواج کے نائب سپریم کمانڈر اور وزیراعظم شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ سے ملاقات کی۔ وزیراعظم کو منامہ میں قصر القضیبیہ پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وزیر اعظم نے پرتپاک استقبال پر شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ کا شکریہ ادا کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں بحرین کی قیادت کو سراہا۔ملاقات میں اقتصادی تعاون گفتگو کا مرکز رہا۔ وزیراعظم نے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کے امکانات کو اجاگر کیا جو اس وقت 550 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان دو طرفہ تجارت کو تین سال کے اندر 1 بلین امریکی ڈالر تک لے جایا جائے گا۔ اس ہدف کا حصول پاکستان-جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ، جو کہ اپنے حتمی مراحل میں ہے اور حال ہی میں ویزا کی شرائط میں نرمی جیسے اقدامات کے ذریعے کیا جائے گا۔ انہوں نے کراچی/ گوادر اور خلیفہ بن سلمان پورٹ کے درمیان بندرگاہ سے بندرگاہ تک رابطے بڑھانے کی تجویز بھی دی۔ وزیراعظم نے 150,000 سے زاید پاکستانی کمیونٹی کے لیے بحرین کی حمایت کو تسلیم کیا اور مزید ہنر مند افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کی تصدیق کی۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم، تکنیکی تربیت، اور ڈیجیٹل گورننس میں مزید تعاون کا خیرمقدم کیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے اسلام آباد میں کنگ حمد یونیورسٹی کی تعمیر اور پاکستانی شہریوں کی رہائی اور وطن واپسی میں سہولت فراہم کرنے پر بحرین کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات میں دفاعی اور سیکیورٹی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ملاقات کی اور دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط اور تاریخی شراکت داری پر گفتگو کی۔ وزیراعظم نے پرتپاک استقبال پر عزت مآب حمد بن عیسیٰ الخلیفہ کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ بحرین کی دیرینہ خیر سگالی کو سراہا۔ انہوں نے امن، رواداری اور بقائے باہمی کو فروغ دینے میں بحرین کی قیادت کو سراہا۔ ملاقات کے دوران بحرین کے بادشاہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو آرڈر آف بحرین (فرست کلاس) پیش کیا، جو کہ بحرین کی جانب سے عالمی سربراہان کو پیش کیے جانے والا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ملاقات میں بحرین کے بادشاہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو بتایا کہ بحرین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے بحرین کی قانونی نمائندگی کی۔ بحرین کے بادشاہ نے کہا کہ ہمارے ریکارڈ موجود دستاویزات کے مطابق محمد علی جناح بحرین کے وکیل رہے۔دونوں اطراف نے دو طرفہ تعلقات میں حوصلہ افزا رفتار کا جائزہ لیا اور سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے مشترکہ ایمان اور باہمی احترام پر مبنی دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔اقتصادی تعلقات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے کی پاکستان کی خواہش کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان-جی سی سی آزاد تجارتی معاہدے، جو کہ اپنے حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے، کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو مزید فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بحرینی سرمایہ کاروں کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے ذریعے پاکستان میں مختلف شعبوں بالخصوص غذائی تحفظ، آئی ٹی، تعمیرات، کان کنی، سیاحت اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔
مناما: وزیراعظم شہبازشریف کو القضیبیہ پیلس کے دورے کے دوران گارڈ آف آنر پیش کیا جارہاہے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بحرین کے بادشاہ انہوں نے بحرین کی کے لیے
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔