نواز شریف کی پارٹی کو اقتدار میں لانے والوں کا بھی احتساب کیا جائے: شوکت یوسفزئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
---فائل فوٹو
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ نواز شریف کی پارٹی کو اقتدار میں لانے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔
شوکت یوسفزئی نے اپنے بیان میں کہا کہ میاں نواز شریف کا مطالبہ اچھا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پھر میاں نواز شریف کا بھی احتساب ہونا چاہیے کہ اِنہیں اور ان کی پارٹی کو اقتدار میں کون لایا تھا۔
واضح رہے کہ جیو جیوز کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا تھا کہ جنرل فیض حمید کے بعد جنرل باجوہ کا بھی احتساب ہوگا۔
نواز شریف نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں کامیابی پر شہباز شریف اور مریم نواز کو مبارک باد دیتا ہوں، حکومتی اقدامات سے مہنگائی کی شرح میں کمی ہوئی ہے۔
اس پر وزیرِ مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے ردِ عمل میں کہا کہ 2011ء سے لے کر 2018ء تک جن کرداروں نے تحریکِ انصاف کو پروموٹ کیا ان کا احتساب ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ نو منتخب ارکانِ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی اکیلے مجرم نہیں، اِنہیں لانے والے بھی برابر کے شریک ہیں، اِن کا بھی حساب ہونا چاہیے، دوسروں کو چور اور ڈاکو کہنے والے خود چور ثابت ہوئے۔
نواز شریف نے کہا تھا کہ ضمنی انتخابات میں لوگوں نے کارکردگی کو ووٹ دیا، نفرت، فساد اور فتنے کو ضمنی انتخابات میں شکست ہوئی، ن لیگ کے جانے کے بعد بہت تباہی ہوئی، ملک کا ستیاناس کر دیا گیا، 2018ء سے 2022ء تک جو ہوا اس کی ذمے داری ان کے سر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: احتساب ہونا چاہیے کو اقتدار میں لانے والوں کا نواز شریف نے کہا کہا کہ کا بھی
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔