کراچی: نیپا چورنگی حادثے میں معصوم بچے کے گٹر میں گرنے کی سی سی ٹی وی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
کراچی میں نیپا چورنگی کے قریب ننھے ابراہیم کی کھلے مین ہول گرنے کی دلخراش سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی۔
تفصیلات کے مطابق اتوار کی شب پیش آئے اس سانحے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ابراہیم اپنی والدہ کے ساتھ ڈپارٹمنٹل اسٹور سے باہر نکلا تھا۔
اسٹور سے منسلک پارکنگ ایریا میں چند قدم کے فاصلے پر ہی کھلا مین ہول موجود تھا۔ 3 سالہ ابراہیم بھاگتے ہوئے اپنے والد کے پاس جانے لگا اور اچانک مین ہول میں گرگیا۔
ننھےابراہیم کی والدہ کے چیخنے چلانے پر رش لگ گیا اور قریب کھڑے افراد نے بھی مدد کے لیے لوگوں کو آواز دی، جائے حادثہ پر موجود لوگ گٹر کے گرد جمع ہوکر بچے کی تلاش میں مصروف ہوگئے، تاہم ابراہیم کو نہ بچایا جاسکا۔
سی سی ٹی وی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مین ہول کے ارد گرد کوئی کوئی حفاظتی نشان یا رکاوٹ موجود نہیں تھی۔
یاد رہے کہ اہلخانہ اور اہل محلہ نے اپنی مدد آپ کے تحت مشینری بلاکر 3 سالہ ابراہیم کی تلاش شروع کی تھی، تاہم پوری رات گزرنے کے باوجود بچہ نہیں مل سکا تھا۔
پیر کو واقعے کے 14 گھنٹے گزر جانے کے بعد بچے کی لاش جائے حادثہ سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر نالے سے ملی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں