نیپا چورنگی حادثہ، 3 سالہ ابراہیم کی لاش نکالنے والا نوجوان کون ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گرنے کر جاں بحق ہونے والے تین سالہ ابراہیم کی لاش ایک کچرا چننے والے لڑکے نے نکالی۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز شاہ فیصل سے تعلق رکھنے والا جوڑا اپنے بیٹے ابراہیم کے ہمراہ نیپا چورنگی کے قریب واقع نجی مارٹ میں خریداری کیلیے آیا۔
مارٹ سے باہر نکلتے ہی تین سالہ ابراہیم نے والدہ کا ہاتھ چھڑوایا اور والد کی موٹرسائیکل کی طرف بھاگا تو وہاں پر موجود کھلے مین ہول میں گر گیا۔
حادثے کے فوری بعد بچے کی والدہ عائشہ کی دلخراش ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ ہاتھ جوڑ جوڑ کر اپنے بچے کو تلاش کرنے کی اپیلیں کررہی تھیں۔
واقعے کے بعد روایتی طور پر سرکاری مشینری گھنٹوں تاخیر سے پہنچی جبکہ وقوعہ پر موجود لوگوں اور والدین نے اپنے پاس سے پیسے ملا کر شاول منگوایا جس نے کھدائی کا کام شروع کیا۔
ابراہیم کی لاش 15 گھنٹے کے طویل ریسکیو آپریشن کے بعد ملی تاہم اس کو کروڑوں روپے کی مشینری یا کسی تربیت یافتہ رضاکار نے تلاش نہیں کیا۔
تین سالہ بچے کی لاش کو کچرا چننے والے تنویر نامی لڑکے نے تلاش کیا۔ وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو میں لڑکے نے بتایا کہ اُس نے نیپا چورنگی کے قریب واقع نجی یونیورسٹی کے قریب نالے میں لاش دیکھی تو نکال کر متعلق حکام کے حوالے کیا۔
وہاں پر موجود عینی شاہدین نے انکشاف کیا کہ لاش ملنے کے بعد پولیس نے لڑکے کو تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ ریسکیو رضاکار اپنے ادارے کا نام روشن کرنے کیلیے لڑتے رہے۔
بعد ازاں عوام کی جانب سے شدید تنقید ہونے پر ڈی ایس پی گلشن اقبال ٹاؤن نے تنویر کو بلاکر شاباش دی اور اہلکاروں کے رویے پر معذرت بھی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیپا چورنگی کے قریب کی لاش
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔