گٹر میں گرنے والے 3 سالہ بچے کی لاش سرکاری عملے کے بجائے کچرا چننے والے نے نکالی
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گرنے والا 3 سالہ بچہ ابراہیم جاں بحق ہوگیا۔ بچے کی لاش 14 گھنٹے کی تلاش کے بعد ایک کلو میٹر دور نالے سے برآمد کی گئی۔
واقعے کے بعد ایک لڑکے نے دعویٰ کیا کہ بچے کی لاش سرکاری اداروں کے عملے نے نہیں بلکہ اس نے نکالی ہے۔ لڑکے کا کہنا ہے کہ اس نے بچے کی لاش اٹھا کر انکل کو دی تھی ۔ پولیس والے نے مجھے کہا کہ تم کون ہو تو میں نے کہا بچے کو میں نے ڈھونڈا ہے تو انہوں نے مجھے تھپڑ مار کر گاڑی سے اتار دیا۔
اس واقعے پر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں شہریوں نے حکومتی اداروں کی سست روی پر سوال اٹھائے اور کچرا چننے والے لڑکے کو بہادری پر سراہا۔ فیض اللہ سواتی لکھتے ہیں کہ ننھے ابراہیم کی لاش کھربوں بجٹ رکھنے والی بلاول کی حکومت نے نہیں نکالی بلکہ کچرا چننے والے لڑکے نے بچے کی لاش نکال کر اپنے رکشے پہ رکھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان محکموں کے اہلکاروں کو برطرف کچرا چننے والے لڑکے کو ہیرو قرار دیا جائے انعام دیا جائے۔
ننھے ابراھیم کی لاش کھربوں بجٹ رکھنے والی بلاول کی حکومت نے نہیں نکالی بلکہ کچرہ چننے والے لڑکے نے بچے کی لاش نکال کر اپنے رکشے پہ رکھی اور پولیس پہنچی تو لاش کی تفتیش کرکے اسے تھپڑ مارے ، ناسور محکمے کے اہلکاروں کو برطرف کچرہ چننے والے لڑکے کو ہیرو قرار دیا جائے انعام دیا جائے pic.
— Faizullah Khan فیض (@FaizullahSwati) December 1, 2025
ملک اسامہ لکھتے ہیں کہ ننھے ابراہیم کی لاش تلاش کر کے دینے والا وہ بچہ جو روزی روٹی کمانے کی غرض سے کچرا اکھٹا کرتا ہے، ایک وہ ہیں جن کے پورے پورے ادارے اربوں کا فنڈ کھا رہے ہیں مگر وہ تلاش نہ کر سکے۔
ننھے ابراہیم کی لاش تلاش کر کے دینے والا وہ بچہ جو روزی روٹی کمانے کی غرض سے کچرا اکھٹا کرتا ہے، ایک وہ ہیں جن کے پورے پورے ادارے اربوں کا فنڈ کھا رہے ہیں مگر وہ تلاش نہ کر سکے۔ pic.twitter.com/WVjZPx5w9A
— Malik Osama Sarwar (@Malik__osama) December 1, 2025
لاپتا بچے کی والدہ نے دعویٰ کیا کہ بچے کی تلاش ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت کی، مشینوں میں 15 ہزار روپے کا ڈیزل تک ہم نے خود ڈالا، انتظامیہ نے اس جگہ بجلی تک بند کردی۔ بچے کے والد نے بھی کہا کہ مشین ہم خود لے کر آئے انتظامیہ نے کوئی مدد نہیں کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بچے کی لاش کچرا چننے والا گٹر میں بچہ لاپتا بچہ مین ہول ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بچے کی لاش کچرا چننے والا گٹر میں بچہ لاپتا بچہ مین ہول ویڈیو وائرل کچرا چننے والے چننے والے لڑکے بچے کی لاش دیا جائے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔