ایک بیان میں رہنما ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں، مگر آئے دن کے حادثات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ شہری حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہے، نا اہل جعلی میئر شہر کو ماڈرن سٹی نہیں آثار قدیمہ کی طرف دکھیل رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کراچی کے صدر علامہ صادق جعفری نے نیپا چورنگی کھلے گٹروں کے ڈھکن نہ ہونے کے باعث ایک معصوم بچہ جاں بحق ہونے کے افسوسناک سانحے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر قائد میں تین سالہ بچہ کے ساتھ حادثہ کے ذمہ دار جعلی میئر مرتضیٰ وہاب ہیں، ان کے خلاف قتل کا مقدمہ قائم کیا جائے، شہر میں انفرا اسٹرکچر کی بدترین صوتحال ہے، ٹوٹی سڑکیں اور گٹر کے کھلے مین ہول آئے دن حادثوں کا باعث بن رہے ہیں، کھلے گٹروں کے ڈھکن نہ ہونے کے باعث ایک معصوم بچہ جاں بحق ہونے کا المناک واقعہ شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کررہا ہیں، میئر کراچی اور متعلقہ محکمے شہریوں کی بنیادی حفاظتی ضروریات پوری کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی بارہا شکایات کے باوجود گٹروں کے ڈھکن نہ لگانا سنگین غفلت اور انتظامی بے حسی کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں، مگر آئے دن کے حادثات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ شہری حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہے، نا اہل جعلی میئر شہر کو ماڈرن سٹی نہیں آثار قدیمہ کی طرف دکھیل رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہر بھر میں ہنگامی بنیادوں پر کھلے مین ہولز کو بند کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، نا اہل جعلی میئر کو فوری برطرف کیا جائے، سندھ حکومت فوری نوٹس لے اور اس سلسلے میں مؤثر اقدامات اٹھانے جائیں تاکہ آئندہ ایسے دل خراش واقعات کی روک تھام ہو۔ دریں اثناء معصوم بچہ کے سانحہ مجلس وحدت مسلمین سندھ کے رہنما علامہ حیات عباس نجفی، علامہ مقصود علی ڈومکی سمیت دیگر رہنماوں نے حکومتی نا اہلی پرشدید تنقید کرتے ہوئے واقعہ میں جاں بحق ہونے والے کمسن ابراہیم کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جعلی میئر شہریوں کی کیا جائے نا اہل کہ شہر

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار