3سالہ بچہ کے ساتھ حادثہ کے ذمہ دار میئر مرتضیٰ وہاب ہیں، قتل کا مقدمہ قائم کیا جائے، علامہ صادق جعفری
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
ایک بیان میں رہنما ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں، مگر آئے دن کے حادثات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ شہری حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہے، نا اہل جعلی میئر شہر کو ماڈرن سٹی نہیں آثار قدیمہ کی طرف دکھیل رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کراچی کے صدر علامہ صادق جعفری نے نیپا چورنگی کھلے گٹروں کے ڈھکن نہ ہونے کے باعث ایک معصوم بچہ جاں بحق ہونے کے افسوسناک سانحے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر قائد میں تین سالہ بچہ کے ساتھ حادثہ کے ذمہ دار جعلی میئر مرتضیٰ وہاب ہیں، ان کے خلاف قتل کا مقدمہ قائم کیا جائے، شہر میں انفرا اسٹرکچر کی بدترین صوتحال ہے، ٹوٹی سڑکیں اور گٹر کے کھلے مین ہول آئے دن حادثوں کا باعث بن رہے ہیں، کھلے گٹروں کے ڈھکن نہ ہونے کے باعث ایک معصوم بچہ جاں بحق ہونے کا المناک واقعہ شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کررہا ہیں، میئر کراچی اور متعلقہ محکمے شہریوں کی بنیادی حفاظتی ضروریات پوری کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی بارہا شکایات کے باوجود گٹروں کے ڈھکن نہ لگانا سنگین غفلت اور انتظامی بے حسی کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں، مگر آئے دن کے حادثات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ شہری حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہے، نا اہل جعلی میئر شہر کو ماڈرن سٹی نہیں آثار قدیمہ کی طرف دکھیل رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہر بھر میں ہنگامی بنیادوں پر کھلے مین ہولز کو بند کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، نا اہل جعلی میئر کو فوری برطرف کیا جائے، سندھ حکومت فوری نوٹس لے اور اس سلسلے میں مؤثر اقدامات اٹھانے جائیں تاکہ آئندہ ایسے دل خراش واقعات کی روک تھام ہو۔ دریں اثناء معصوم بچہ کے سانحہ مجلس وحدت مسلمین سندھ کے رہنما علامہ حیات عباس نجفی، علامہ مقصود علی ڈومکی سمیت دیگر رہنماوں نے حکومتی نا اہلی پرشدید تنقید کرتے ہوئے واقعہ میں جاں بحق ہونے والے کمسن ابراہیم کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جعلی میئر شہریوں کی کیا جائے نا اہل کہ شہر
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔