کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال نیپا چورنگی کے قریب کھلے گٹر میں گرنے والے 3 سالہ بچے کی تلاش تاحال جاری ہے، تاہم ابھی تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ واقعے کے بعد ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار بھی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے موقع پر پہنچے، تاہم مشتعل شہریوں نے انہیں گاڑی سے اترنے کی اجازت نہیں دی۔ عوامی ردِعمل کے باعث وہ بغیر اترے ہی واپس روانہ ہوگئے۔

کراچی کے لونڈے فاروق ستار پر برہم۔ کراچی کا سیاسی شعور ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کو مسترد کرچکا ہے۔ نئے متبادل کی تلاش ہے۔ اب رہنما نہیں منزل چاہیے! pic.

twitter.com/jF9q7fEg34

— Muhammad Raiyd Qazi (@RaiydQazi4) December 1, 2025

بعد ازاں جاری کردہ بیان میں ڈاکٹر فاروق ستار نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور کھلے مین ہولز حکومتِ سندھ اور میئر کراچی کی ناقص کارکردگی کا واضح ثبوت ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شہر میں متعدد بچے کھلے مین ہولز کا نشانہ بن چکے ہیں، لیکن حکومت کی نظر میں سب اچھا ہے۔

علاقہ مکینوں نے بھی کھلے مین ہولز کے باعث بڑھتے حادثات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بچہ گٹر میں گر گیا بچہ لاپتا فاروق ستار کراچی کے مین ہول گٹر کا ڈھکن میئر کراچی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بچہ گٹر میں گر گیا بچہ لاپتا فاروق ستار کراچی کے مین ہول میئر کراچی فاروق ستار

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • میر واعظ عمر فاروق کا متعدد شخصیات کی رحلت پر اظہار تعزیت
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا