فرانس: دائیں بازو کی جماعت کے رہنما پر دوبارہ حملہ، آٹے کے بعد انڈہ پھینک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
فرانس کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت نیشنل ریلی کے رہنما جوردن بارڈیلا پر ایک تقریب کے دوران انڈہ پھینک دیا گیا، چند روز قبل ایک مظاہرے کے دورا ان پر آٹا بھی پھینکا گیا تھا۔
بارڈیلا جنوب مغربی شہر موئساک میں اپنی نئی کتاب کی تشہیر کے لیے موجود تھے کہ ایک شخص نے ان کے سر پر انڈہ دے مارا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حملہ کرنے والے 74 سالہ شخص کو موقع پر گرفتار کرلیا گیا، اس کے خلاف عوامی عہدے دار پر تشدد کے الزام میں کارروائی جاری ہے، جبکہ بارڈیلا کی جانب سے باضابطہ شکایت بھی درج کروا دی گئی ہے۔
اس سے قبل ویسول کے زرعی میلے کے دورے کے دوران ایک 17 سالہ نوجوان نے بارڈیلا پر آٹا پھینکا تھا، نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد اگلے روز رہا کر دیا گیا۔
بارڈیلا نے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ جتنا ہم آگے بڑھ رہے ہیں اور اقتدار کے قریب ہو رہے ہیں، اتنا ہی بائیں بازو کی جانب سے تشدد، عدم برداشت اور بے وقوفانہ حرکات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزادی، قومی فخر اور حب الوطنی کی ایک نئی لہر فرانس میں اُٹھ رہی ہے، جسے کوئی نہیں روک سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔