ایڈز کے خلاف آگاہی کا عالمی دن: ’بیماری سے زیادہ معاشرے کے رویے کا خوف ہوتا ہے‘
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
دنیا بھر میں آج ایڈز کے خلاف آگاہی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، ایک ایسا دن جس کا مقصد اس مرض کے بارے میں پھیلی ہوئی غلط فہمیوں، خاموشی اور خوف کو ختم کرنا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جو اس بیماری سے نمٹنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔
اس مسئلے کی سنگینی صرف عالمی سطح تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں بھی صورتحال تشویش ناک ہے جہاں ایچ آئی وی کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جس کی خاص وجہ آگاہی کی کمی، ٹیسٹ کروانے سے گریز اور سماجی بدنامی ہے۔
میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر نوید اقبال اس جانب توجہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”دنیا میں ہر سال لاکھوں افراد ایچ آئی وی کا شکار ہوتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بروقت تشخیص اور مستقل علاج کے ذریعے اس وائرس کو مکمل کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔“
سوشل ورکر راؤ ریاض احمد اس مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”یہ عوامل نہ صرف علاج میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں بلکہ متاثرہ افراد کو معاشرتی طور پر تنہا بھی کر دیتے ہیں۔“
یہی وجہ ہے کہ ماہرین بارہا اس ایک اور پہلو کی نشاندہی کرتے ہیں کہ “ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد بیماری سے زیادہ معاشرتی رویّوں سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر مدثر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”سماجی تعصب، غلط اطلاعات اور نفسیاتی دباؤ اس بیماری کے خلاف جنگ کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔“
تاہم اس سب کے باوجود امید کی کرن موجود ہے، کیونکہ جدید دور میں علاج کے طریقوں اور ادویات نے بہت ترقی کی ہے۔ آج ”جدید ادویات اور مناسب نگہداشت کے ذریعے ایچ آئی وی پازیٹِو افراد مکمل صحت مند اور فعال زندگی گزار رہے ہیں۔“ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ بروقت تشخیص، درست معلومات اور سماجی تعاون سے اس بیماری کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ایڈز جیسے موذی مرض سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف بیماری کو روکتا ہے بلکہ ایک صحت مند اور باشعور معاشرے کی تشکیل میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اہم ترین بات یہ ہے کہ ایڈز جیسے موذی مرض سے بچاؤ کے لیے آگاہی کا ہونا سب سے اہم اور ضروری ہے۔ مکمل معلومات، علاج اور مؤثر پالیسی ہی وبا کا رُخ موڑ سکتی ہے۔
ایڈز دراصل ایچ آئی وی وائرس کے حملے کا وہ آخری مرحلہ ہے جب جسم کا مدافعتی نظام اتنا کمزور ہو جاتا ہے کہ معمولی جراثیم بھی جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس وائرس کا ابھی تک مکمل علاج دریافت نہیں ہو سکا، لیکن طاقتور ادویات اور باقاعدہ معائنوں کے ذریعے مریض برسوں تک صحت مند اور فعال زندگی گزار سکتے ہیں، یہی وہ حقیقت ہے جس سے اکثر لوگ ناواقف رہتے ہیں۔
خوف اس لیے بڑھ جاتا ہے کہ ایچ آئی وی کا نام سنتے ہی ذہن میں موت، گناہ اور سماجی بوجھ جیسے الفاظ ابھرتے ہیں، حالانکہ طبّی نقطۂ نظر سے یہ ایک وائرس ہے جسے دوسرے امراض کی طرح سائنسی اصولوں کے تحت سمجھ کر قابو پایا جا سکتا ہے۔ غلط فہمیوں کی وجہ سے مریض بیماری سے کم اور معاشرے کے رویّوں سے زیادہ زخمی ہوتے ہیں، اسی لیے عالمی دن کا سب سے اہم پیغام ’’انسان کو نہیں، وائرس کو مسترد کیجیے‘‘ ہے۔
ایچ آئی وی کیسے پھیلتا ہے؟
ایچ آئی وی عموماً چار راستوں سے منتقل ہوتا ہے، غیر محفوظ جنسی تعلق، متاثرہ خون، آلودہ سرنج یا کسی ٹول کے استعمال سے، اور اگر علاج نہ ہو تو دوران حمل ماں سے بچے کو یا دودھ پلانے کے دوران یہ وائرس ٹرانسفر ہوسکتے ہیں۔
یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ یہ وائرس ہاتھ ملانے، ساتھ کھانا کھانے، بغل گیر ہونے، بیت الخلا یا مشترکہ ٹوائلٹ کے استعمال کرنے، یا ہوا کے ذریعے ہرگز نہیں پھیلتا، لیکن بدقسمتی سے آج بھی بہت سے معاشروں میں یہی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور مضبوط عقائد کی طرح مانی جاتی ہیں۔
درست معلومات کی کمی کی وجہ سے بعض خاندان اپنے ہی مریض فرد کو بستر، برتن اور کمرا الگ رکھنے پر مجبور کر دیتے ہیں، حالانکہ روزمرہ میل جول سے وائرس منتقل نہیں ہوتا۔ ایسے رویّے نہ صرف انسانی احترام کے منافی ہیں بلکہ مریض کو علاج سے دور اور ڈپریشن کے قریب لے جاتے ہیں۔
روک تھام: ذمہ داری اور اختیار
ایڈز سے بچاؤ کا سب سے پہلا قدم محتاط اور محفوظ رویّہ اختیار کرنا ہے۔ اس میں محفوظ اور رضامند جنسی تعلق رکھنا، کنڈوم کا صحیح استعمال اور ایک سے زیادہ شریکِ حیات رکھنے سے گریز کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ ہر وہ شخص جو اس خطرے میں ہو سکتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ وقت پر خون کا ٹیسٹ کروائے، مشاورت لے اور اگر ضرورت ہو تو باقاعدہ علاج بھی شروع کرے۔ یہ اقدامات اپنی اور اپنے شریکِ حیات کی حفاظت کے لیے بہت ضروری ہیں۔
طبی مراکز میں خون کی سکریننگ، سرنج اور آلات کو مکمل جراثیم کش بنانا، انجیکشن لگانے اور جسم پر کَٹ لگانے جیسے، ٹیٹو، کان ناک چھیدنا وغیرہ جیسے عمل میں صاف اور نئی سوئیوں کا استعمال بنیادی اصول ہیں۔ کم آمدنی والے ممالک میں وسائل کی کمی، ادویات کی قلت اور ٹیسٹ سہولیات کی عدم دستیابی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو بڑھا دیتی ہے، اس لیے عالمی ادارے مسلسل مالی اور تکنیکی مدد میں اضافے پر زور دے رہے ہیں۔
علاج، امید اور نئی پیش رفت
اگرچہ ایچ آئی وی کا مکمل خاتمہ فی الحال موجود نہیں، مگر اینٹی ریٹرو وائرل ادویات کے باقاعدہ استعمال سے وائرس کو اس حد تک دبایا جا سکتا ہے کہ خون میں اس کا لیول نہ ہونے کے برابر رہ جائے۔ اس مرحلے پر نہ صرف مریض کی صحت بہتر ہو جاتی ہے بلکہ سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ وائرس کا دوسروں تک منتقل ہونے کا امکان بھی نہایت کم ہو جاتا ہے، جسے سادہ الفاظ میں ’’علاج ہی بچاؤ بھی ہے‘‘ کہا جا سکتا ہے۔
نئی تحقیق طویل اثر رکھنے والی ادویات، انجیکشن پر مبنی کورسز اور ایسے تحفظاتی طریقوں پر کام کر رہی ہے جو خاص طور پر نوجوانوں اور کمزور طبقات کے لیے زیادہ کارآمد ہوں۔
معاشرتی رویّے، خاموشی اور حقوقِ انسان
ایچ آئی وی کے ساتھ جینے والوں کے لیے سب سے بڑا بوجھ اکثر ان کے جسم کے اندر نہیں بلکہ معاشرے کے رویّوں میں چھپا ہوتا ہے۔ روزگار سے محرومی، علاج کے دوران بدسلوکی، خاندان کا رویہ، اور میڈیا میں سنسنی خیز انداز میں پیش کرنا جیسے عوامل مریض کو بار بار یہی پیغام دیتے ہیں کہ اس کی شناخت ایک انسان کے بجائے محض ایک وائرس سے جڑی ہوئی ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔
متعدد ممالک میں ہم جنس تعلقات، منشیات استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین اور نفرت کی فضا متاثرہ شخص کو زیرِ زمین دھکیل دیتی ہے، نتیجتاً وہ حفاظتی معلومات اور علاج سے دور رہتے ہیں اور بیماری تیزی سے پھیلتی ہے۔
انسانی حقوق کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جب تک قانون اور سماجی لہجہ دونوں سطحوں پر امتیاز کم نہیں ہو گا، صرف طبی عمل کافی نہیں ہوگا۔
ایڈز کا عالمی دن 1988 سے ہر سال یکم دسمبر کو اس لیے منایا جا رہا ہے کہ دنیا کو یاد رہے کہ یہ وبا کسی ایک ملک، نسل یا طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ مشترکہ انسانی چیلنج ہے۔ ہر سال کا موضوع حکومتوں، ماہرینِ صحت اور شہریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ پچھلے برس کے دوران ہم نے کہاں پیش رفت کی اور کہاں لاپرواہی، نفرت، اجتناب یا خاموشی نے نقصان بڑھایا۔
2025 کے لیے ’’رکاوٹوں کو دور کرنا‘‘ صرف ایک نعرہ نہیں، ایک عملی قدم بھی ہے۔ درست معلومات عام کرنا، سستے ٹیسٹ اور علاج کی فراہمی، کمزور طبقوں کے حقوق کا تحفظ، اور ہر سطح پر یہ تسلیم کرنا کہ ایچ آئی وی کے ساتھ جینے والا فرد سب سے پہلے ایک باعزت انسان ہے۔ اگر ہم معاشرے کے خوف کو سائنسی شعور، تعصب کو ہمدردی اور خاموشی کو مکالمے سے بدل دیں تو ممکن ہے آنے والی نسلیں ایڈز کو تاریخ کی کتابوں میں پڑھیں، روزمرہ زندگی میں نہ جھیلیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہتے ہیں کہ جا سکتا ہے ایچ آئی اور سماجی معاشرے کے ہیں بلکہ دیتے ہیں عالمی دن سے زیادہ کے ذریعے کے خلاف نہیں ہو کے لیے
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔