خواجہ آصف کی بچوں کی عمران خان سے ملاقات کے بارے گارنٹی پر جمائمہ نے رد عمل جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ اگر عمران خان کے بیٹے ملنے آتے ہیں تو انہیں پاکستان میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے غیر ملکی صحافی مہدی حسن کو انٹرویو کے دوران سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ گارنٹی دی کہ عمران خان کے بچوں کو ملاقات کیلئے پاکستان آنے پر گرفتار نہیں کیا جائے گا ۔
خواجہ آصف کے بیان پر جمائمہ گولڈ سمتھ نے رد عمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’ بچوں کو تو فون پر بھی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ کسی کو بھی نہیں ہے ‘‘۔
جسٹس طارق جہانگیری کے استعفے کی خبروں پر انہی کی عدالت میں تذکرہ
They’re not even allowed to speak to him on the phone.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔