data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور مصر کے درمیان سیاسی، دفاعی اور معاشی شراکت داری بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد العاطی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مصری وزیر خارجہ کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں، دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے، دونوں ممالک میں سیاسی ڈائیلاگ اور معاشی شراکت داری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، اس کے علاوہ دفاع سمیت باقی تمام شعبوں میں بھی تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم دنیا میں مصر کو اپنا شراکت دار سمجھتا ہے، مصری وزیر خارجہ کے دورے سے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، پاکستان مصر کے ساتھ 250 بزنس ہاؤسز کی فہرست شیئر کرے گا، ان بزنس ہاؤسز میں معیشت کے تمام شعبے شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیمبر آفس کامرسز اور کاروباری فیڈریشن سے اس میں مشاورت کریں گے، چھ ماہ بعد اس لسٹ میں 250 بزنس ہاؤسز مزید شامل ہوں گے، پاکستان اور مصر کا بزنس فورم بنایا جائے گا، فورم کا پہلا اجلاس مصر میں ہوگا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مصری وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران غزہ سمیت عالمی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، جموں و کشمیر اور افغانستان کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مصر نے پاکستانی طلبہ کے اسکالر شپ ڈبل کرنے کا اعلان کیا ہے، الاظہر یونیورسٹی میں اسکالر شپس دیے جائیں گے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اور پشاور میں دہشتگرد حملوں میں ہونے والے جانی نقصان پر پاکستانی حکومت اور عوام سے تعزیت کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، دہشت گردی و شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے پاکستان سے تعاون کریں گے۔ مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور مصر کے درمیان مضبوط اور تاریخی تعلقات ہیں، پاکستان اور مصر کی دوستی باہمی مفاد اور احترام پر مبنی ہے، سیاسی ڈائیلاگ، معاشی شراکت داری، دفاع سمیت تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، دوطرفہ تجارتی حجم بڑھانے اور مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہیں، زراعت، ادویہ سازی، لائیوسٹاک کے شعبوں میں پاکستان سے تعاون بڑھائیں گے۔ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی کا کہنا تھا کہ مختلف کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کو سراہتے ہیں، غزہ جنگ بندی معاہدے میں پاکستان نے اہم کردارادا کیا، غزہ کی تعمیر نو میں پاکستان کے کردار اور تعاون کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصر،اسرائیل اور فلسطین تنازع کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ تنازع فلسطین کا دوریاستی حل ہی قابل عمل اورپائیدار ہے۔ قبل ازیں مصر کے وزیرخارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمدعبدالعاطی وزارت خارجہ پہنچے جہاں نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار نے معزز مہمان کا استقبال کیا، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا ، بعدازاں فوٹوسیشن بھی ہوا۔ بعدازاں پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی جس میں معیشت، دفاع سمیت دیگر شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسلا م آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری سے مصری وزیر خارجہ ملاقات کررہے ہیں‘وزیر خارجہ اسحاق ڈار ودیگر بھی شریک ہیں

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وزیر خارجہ اسحاق ڈار معاشی شراکت داری پاکستان اور مصر ڈاکٹر بدر احمد کا کہنا تھا کہ میں پاکستان پاکستان ا نے کہا کہ پر اتفاق مصر کے کہ مصر

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار