پاکستان اور مصر دہشت گردی کیخلاف متحد‘ دفاعی و معاشی شراکت داری پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251201-01-15
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور مصر کے درمیان سیاسی، دفاعی اور معاشی شراکت داری بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد العاطی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مصری وزیر خارجہ کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں، دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے، دونوں ممالک میں سیاسی ڈائیلاگ اور معاشی شراکت داری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، اس کے علاوہ دفاع سمیت باقی تمام شعبوں میں بھی تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم دنیا میں مصر کو اپنا شراکت دار سمجھتا ہے، مصری وزیر خارجہ کے دورے سے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، پاکستان مصر کے ساتھ 250 بزنس ہاؤسز کی فہرست شیئر کرے گا، ان بزنس ہاؤسز میں معیشت کے تمام شعبے شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیمبر آفس کامرسز اور کاروباری فیڈریشن سے اس میں مشاورت کریں گے، چھ ماہ بعد اس لسٹ میں 250 بزنس ہاؤسز مزید شامل ہوں گے، پاکستان اور مصر کا بزنس فورم بنایا جائے گا، فورم کا پہلا اجلاس مصر میں ہوگا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مصری وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران غزہ سمیت عالمی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، جموں و کشمیر اور افغانستان کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مصر نے پاکستانی طلبہ کے اسکالر شپ ڈبل کرنے کا اعلان کیا ہے، الاظہر یونیورسٹی میں اسکالر شپس دیے جائیں گے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اور پشاور میں دہشتگرد حملوں میں ہونے والے جانی نقصان پر پاکستانی حکومت اور عوام سے تعزیت کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، دہشت گردی و شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے پاکستان سے تعاون کریں گے۔ مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور مصر کے درمیان مضبوط اور تاریخی تعلقات ہیں، پاکستان اور مصر کی دوستی باہمی مفاد اور احترام پر مبنی ہے، سیاسی ڈائیلاگ، معاشی شراکت داری، دفاع سمیت تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، دوطرفہ تجارتی حجم بڑھانے اور مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہیں، زراعت، ادویہ سازی، لائیوسٹاک کے شعبوں میں پاکستان سے تعاون بڑھائیں گے۔ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی کا کہنا تھا کہ مختلف کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کو سراہتے ہیں، غزہ جنگ بندی معاہدے میں پاکستان نے اہم کردارادا کیا، غزہ کی تعمیر نو میں پاکستان کے کردار اور تعاون کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصر،اسرائیل اور فلسطین تنازع کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ تنازع فلسطین کا دوریاستی حل ہی قابل عمل اورپائیدار ہے۔ قبل ازیں مصر کے وزیرخارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمدعبدالعاطی وزارت خارجہ پہنچے جہاں نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار نے معزز مہمان کا استقبال کیا، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا ، بعدازاں فوٹوسیشن بھی ہوا۔ بعدازاں پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی جس میں معیشت، دفاع سمیت دیگر شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسلا م آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری سے مصری وزیر خارجہ ملاقات کررہے ہیں‘وزیر خارجہ اسحاق ڈار ودیگر بھی شریک ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیر خارجہ اسحاق ڈار معاشی شراکت داری پاکستان اور مصر ڈاکٹر بدر احمد کا کہنا تھا کہ میں پاکستان پاکستان ا نے کہا کہ پر اتفاق مصر کے کہ مصر
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔