غزہ کی تعمیر کیلیے پاکستان سے تعاون بڑھانے کی اپیل، مصری وزیرِ خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد کے دورے پر موجود مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے تجویز کردہ عالمی استحکام فورس (ISF) کا کردار سختی سے محدود رکھا جانا چاہیے تاکہ فورس کا مقصد صرف جنگ بندی کی نگرانی اور سرحدی سیکیورٹی تک محدود رہے، نہ کہ غزہ میں کوئی نیا سیاسی یا فوجی نظام نافذ کرنا۔
میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے مصری وزیرِ خارجہ نے کہا کہ غزہ کے لیے عالمی استحکام فورس کا اصل مقصد امن نافذ کرنا نہیں بلکہ موجودہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہے،فورس سے متعلق تفصیلات، مینڈیٹ اور دستوں کی فراہمی جیسے اہم امور پر عالمی شراکت داروں خصوصاً امریکاکے ساتھ مشاورت جاری ہے۔
بدر عبدالعاطی نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی کے عمل میں مزید نمایاں کردار ادا کرے، مصر جلد غزہ کی تعمیرِ نو سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے، جس میں پاکستان سے مالی معاونت کے ساتھ ساتھ نجی شعبے، تکنیکی تعاون اور طبی خدمات میں بھی شمولیت کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں اس وقت تقریباً 50 ہزار ایسے مریض موجود ہیں جنہیں فوری طبی مدد کی ضرورت ہے، اور عالمی تعاون کے بغیر اس بحران سے نمٹنا ناممکن ہے۔
مصری وزیرِ خارجہ کے مطابق پاکستان اور مصر اس مؤقف پر مکمل اتفاق رکھتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔ انہوں نے سوڈان، ایران اور خطے کے دیگر تنازعات کے حوالے سے بھی سیاسی عمل، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا۔
بدر عبدالعاطی نے پاکستان اور مصر کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور دفاعی تعاون کے فروغ پر بھی زور دیا، دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی حجم کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے نجی شعبے کو بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
ویب ڈیسک
وہاج فاروقی
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ غزہ
پڑھیں:
’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے طلبہ احتجاج کے تناظر میں ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے طلبہ اور سونم وانگچک سے اپیل کی ہے۔
سلمان خان نے نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ احتجاج کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’طلبہ کی تعلیم اور سیکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، اس لیے انہیں خود بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اپنے والدین کو مزید پریشان کرنا چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’معزز وزیرِ اعظم اس معاملے پر ٹوئٹ کر چکے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ پرچہ لیک کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ لہٰذا تمام طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنے والدین اور گھروں کو واپس چلے جائیں۔‘‘
View this post on Instagramاداکار نے اپنے پیغام میں گزشتہ 25 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تعلیمی کارکن سونم وانگچک کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’سونم، اب بہت ہو گیا، بھائی۔ براہِ کرم اپنی بھوک ہڑتال مزید طویل نہ کریں۔ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو احتجاج کا جذبہ برقرار رکھیے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اب اس کی ضرورت ہے۔ کچھ کھا لیجیے، اگر چاہیں تو میں اپنے گھر سے آپ کے لیے کھانا بھی بھجوا دوں گا۔‘‘
یہ بیان سلمان خان کی جانب سے 24 گھنٹوں کے دوران اس معاملے پر دوسری عوامی اپیل ہے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے نیٹ امتحان کے تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کے مفادات کے تحفظ پر زور دیا تھا۔
View this post on Instagramواضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔