غزہ میں امداد روکی گئی تو دنیا خاموش نہیں رہے گی، یو این سیکرٹری جنرل کی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فلسطینی عوام سے یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر کہا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں، جو انتہائی تشویشناک ہیں۔
انہوں نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے قتل عام، بار بار بے گھری اور انسانی امداد میں رکاوٹ کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا۔
انتونیو گوتریس نے مطالبہ کیا کہ تمام فریق حالیہ جنگ بندی پر مکمل عمل کریں اور غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فوری رسائی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے فلسطینی سرزمین کے غیر قانونی قبضے کے خاتمے اور دو ریاستی حل کی جانب ناقابلِ واپسی پیشرفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سال میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا ہے۔
ادھر لندن میں فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہزاروں افراد نے ریلی نکالی۔ ہائیڈ پارک سے وائٹ ہال تک مارچ کے دوران مظاہرین نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف نعرے لگائے اور برطانوی حکومت سے اسرائیل کو اسلحہ فروخت روکنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے عالمی برادری سے بھی غزہ میں امداد کی رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔