کراچی میں املاک پر قبضوں کے خلاف جماعت اسلامی خاموش نہیں رہے گی، امیر جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی میں املاک پر قبضوں کے خلاف جماعت اسلامی خاموش نہیں رہے گی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ 21-22-23 نومبر کو اجتماع ہوا جس میں کراچی سے چترال تک پیغام پہنچا۔ یہ اجتماع ملک کے محروم طبقات کا ترجمان ثابت ہوا۔ ملک میں اس بات کی ضرورت ہے کہ آئین کی بالادستی قائم ہو۔
انہوں نے کہا کہ بااختیار بلدیاتی نظام بھی ہونا چاہیے۔ بلدیاتی اداروں کو آئینی اورمالیاتی سہولیات بھی میسر ہونا ضروری ہے۔ وڈیرہ شاہی اور ظلم کے خلاف مہم کا آغاز کردیا ہے جو احتجاج دھرنوں کی صورت میں نظر آئے گی۔
منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ 17 سالوں سے سندھ میں تعلیم پر قدغن لگارہی ہے اور تعلیم مکاؤ پالیسی پر کاربند ہے ۔نجکاری کے نام پر سودے بازی کررہی ہے، جامعات کی خود مختاری پر بھی حملہ کیا گیا ۔ پیپلزپارٹی جمہوریت کہتے کہتے نہیں تھکتی مگر جمہوری روایات کی خلاف ورزی جارہی ہے۔ 60 کی دہائی میں اس کا پودا لگا یا گیا اس کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ چند افراد کی خواہش پر اداروں کو تقسیم کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ طلبہ کے مستقبل سے کھیلاجاریا ہے۔ من پسند افراد کو نوازنے کے لیے یہ سب کام کیے جا رہے ہیں اور اس میں کسی سے مشاورت تک نہیں کی گئی ۔ بل اسمبلی میں لایا گیا جس کے تحت بیوروکریٹ وائس چانسلر لگ سکتاہے۔
انہوں نے کہا کہ اداروں کی نجکاری پبلک پرائیوٹ پاٹنر شپ کرنا آپ کا کام ہے۔ باوقار ادارے کو خواہشات کی بھینٹ چڑہایاجاریا ہے۔ پاکستان میں 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں جن میں 78 لاکھ کی تعداد سندھ کی ہے ۔ تعلیم پر جی ڈی پی کا 0.
منعم ظفر خان نے کہا کہ یہ سب کرکے پاکستان کا مستقبل کیسے سنبھلے گا؟ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ 1700 ایکٹر پر مشتمل جامعہ کراچی کا کیا حال کردیا گیا ہے۔ وزیراعلی سندھ کی ذمے داری ہے کہ پوائنٹ بسوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ طلبہ میں شعور بیداری پیدا ہونے کا خوف حکومت کو اسٹوڈنٹ یونین کے الیکشن کرانے سے روکتا ہے۔ سندھ حکومت کی تعلیم کے میدان میں عدم دلچسپی کا خمیازہ پورا سندھ بھگت رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جامعہ کراچی، طلبہ و اساتذہ کے ساتھ ہیں اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے کو الگ کرنے کے خلاف ان کا ساتھ دیں گے۔ یہاں پارکوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے پبلک پرائیوٹ پاٹنر شپ کے نام پر قبضے کیے جارہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ گلشن اقبال میں وکلا کے بھیس میں قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر جماعت اسلامی کے کارکنان اور اہل علاقہ کی مزاحمت پر وہ بھاگ نکلے۔ کراچی کی عوام کو بیدار ہونا ہوگا ۔ کراچی میں املاک پر قبضوں کے خلاف جماعت اسلامی خاموش نہیں رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے خلاف
پڑھیں:
نواز شریف پہلے یہ بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟ شرجیل میمن کا ردعمل
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے میر پور جلسے میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ن لیگ خیراتی مینڈیٹ والی جماعت ہے، اس کے منہ سے الیکشن اور ووٹوں کی باتیں اچھی نہیں لگتیں، میاں نواز شریف صاحب یہ بتائیں کہ ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ نواز شریف صاحب، سیاست ہوتی رہے گی، سندھ اور کشمیر کی سرزمین و عوام کو طنز و مزاح کا موضوع مت بنائیں، سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر کسی بھی صوبے، شہر یا علاقے کی تضحیک کسی صورت قابلِ قبول نہیں، سابق وزیر اعظم کا یہ رویہ نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ آپ کے بیان نے لاکھوں پاکستانیوں، کشمیر اور سندھ کے عوام جذبات کو مجروح کیا ہے،کسی بھی شہر یا ضلع کا نام سیاسی تقریر میں مذاق یا تقابل کے انداز میں استعمال کرنا شعوری پسماندگی ہے، کشمیر پاکستان کی قومی جدوجہد کی علامت ہے ، سندھ کا ہر شہر بھی اتنا ہی محترم اور عزیز ہے۔
مزید پڑھیںآزاد کشمیر میں مخالفین کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، اب کشمیر کے وارث آگئے ہیں، مریم نواز
بلاول برخودار! کشمیر کو کشمور، میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا، نواز شریف
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اگرچہ نواز شریف نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ "تلخی نہیں ہونی چاہیے"، لیکن ان کے اپنے الفاظ ہی سیاسی تلخی اور غیر ضروری تقسیم کا باعث بن رہے ہیں، قومی رہنماؤں کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو مختلف علاقوں کے عوام میں احساسِ محرومی یا تفریق کو جنم دیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ قومی یکجہتی، باہمی احترام اور سنجیدہ سیاسی رویوں کا متقاضی ہے۔ سندھ اور کشمیر کے عوام اپنی سرزمین و شناخت پر فخر کرتے ہیں اور کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ انہیں سیاسی طنز کا نشانہ بنائے، جو سیاست تقسیم اور تمسخر پر مبنی ہو، وہ قومی مفاد کے بجائے سیاسی نقصان کا سبب بنتی ہے۔