وزیرِ اعظم سے چیئرمین جوائنٹ چیفس کمیٹی کی الوداعی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے سبکدوش ہونے والے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے الوداعی ملاقات کی ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اس ملاقات میں وزیرِ اعظم نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ملک و قوم کیلئے خدمات کی تعریف کی۔
خیال رہے کہ جنرل ساحر شمشاد مرزا مسلح افواج کے18ویں اور آخری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ہوں گے ، وہ 27 نومبر 2025ء کو اپنی ملازمت کی مقررہ مدت پوری کریں گے۔
آئین میں 27ویں ترمیم کے نتیجے میں جنرل ساحر شمشاد مرزا کے بعد کوئی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نامزد نہیں کیا جائے گا۔
اشفاق احمد خلیل وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات تعینات
پاکستان کے پہلے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل محمد شریف تھے جنہیں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1 مارچ 1976ء کو مقرر کیا تھا۔
یاد رہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی رہنے والے ایڈمرل محمد شریف اور ایڈمرل افتخار احمد سروہی نیوی سے تھے جبکہ پاکستان ایئر فورس سے صرف ایئر چیف مارشل فاروق فیروز خان نے بطور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی خدمات انجام دی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: چیئرمین جوائنٹ چیفس ا ف سٹاف کمیٹی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔