کراچی، نیشنل بینک اسٹیڈیم کی ترقی پر سینیٹ کمیٹی کا اہم اجلاس آج شروع ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
کراچی:
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹیریٹ کا دو روزہ اہم اجلاس پیر اور منگل کو کراچی میں منعقد ہوگا۔
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت پہلے دن صبح 11 بجے نیشنل بینک اسٹیڈیم میں اجلاس میں کرکٹ سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔
ایجنڈے کے مطابق کمیٹی کے ارکان اسٹیڈیم کا تفصیلی دورہ کریں گے جبکہ پی سی بی کے چیئرمین کی جانب سے اسٹیڈیم میں نئی تعمیرات کے حوالے سے مفصل پریزنٹیشن پیش کی جائے گی۔
اس موقع پر نیشنل اسٹیڈیم میں گزشتہ تین برس کے دوران ہونے والے کام اور کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، کمیٹی کے چیئرمین کی اجازت سے کرکٹ سے متعلق امور پر بات چیت بھی ایجنڈے کا حصہ ہوگی۔
واضح رہے کہ کمیٹی کے ارکان میں سینیٹر فاروق حمید نائیک، سینیٹر سلیم بانڈی والا، سینیٹر فوزیہ ارشد، سینیٹر سیف اللہ خان نیازی ،سینیٹر سعدیہ عباسی ،سینیٹر ایمل ولی خان ،سینیٹر انوشہ رحمان، سینیٹر عطاالرحمن، سینیٹر عامر ولی الدین چشتی، سینیٹر محمد عبدالقادر، سینیٹر اعظم خان سواتی اور سینیٹر دلاور خان بھی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کمیٹی کے
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔